بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

تت تو طلاق، والے فتوی پر سوال، اور اس کا جواب


سوال

بندے نے چند مہینے قبل آپ سے طلاق سے متعلق آن لائن ایک استفتاء کیا تھا، جس کا جواب  آن لائن موصول ہوا ،جس میں ایک طلاقِ رجعی کا فتویٰ آپ نے دیا ،وہ سوال و جواب اب بھی آپ کی ویب سائٹ پر بعنوان " تت تو تلات سے طلاق کا حکم " سے موجود ہے، جس کا فتوی نمبر :144410101194 ہے ، آپ کو بندے نے یہ سوال اس مذکورہ استفتاء سے پہلے بھی کیا تھا تو اس وقت بھی آپ نے ایک طلاقِ رجعی کا فیصلہ کیا تھا ، جس کا فتوی نمبر : 144402101212 ہے ، لیکن بندے نے آپ سے استفتاء کرنے سے قبل دار العلوم دیوبند اور دار العلوم کراچی کورنگی سے بھی استفتاء کیا تھا، دونوں اداروں کا جواب عدمِ وقوع کا آیا ، دار العلوم دیوبند نے عدم وقوع کی علت صراحۃً  اور دلالۃً نسبت الی الزوجہ کا نہ ہونا بتلایا ،  دوسری مرتبہ جب دوبارہ اسی واقعے سےمتعلق آپ کو استفتاء کیا تھا، تو دار العلوم کراچی کورنگی کو بھی سوال روانہ  کیا گیا، اس وقت بھی دار العلوم کراچی کورنگی کا فتویٰ عدمِ وقوع کا آیا ، پھر دار العلوم دیوبند سے وضاحتی فتوی پوچھا گیا ،تو انہوں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی امداد الفتاوی میں موجود نسبت الی الزوجہ کی تحقیق کو مد نظر رکھ کر واپس عدم وقوع ہی کا فیصلہ کیا ،پھر گجرات ، ہند کے مشہور ادارے جامعہ علوم القرآن ، جمبوسر سے بھی استفتاء کیا، تو انہوں نے بھی صراحۃً اور دلالۃً نسبت الی الزوجہ مفقود ہونے کی وجہ سے عدم وقوع کا فیصلہ کیا ،اور دوسری وجہ نقل طلاق بتائی کہ مستفتی منہ پر ہاتھ رکھ کر انشاءِ طلاق کی نیت کے بغیر محض یہ جاننے کے لیے کہ اس طرح طلاق کے الفاظ بولنے سے مخاطب کو کیا سنائی دیتا ہے، سابقہ کیفیت کی نقالی کر رہا تھا، اور بندے نے بھی نسبت الی الزوجہ فی باب الطلاق سے متعلق خوب مطالعہ کیا خصوصاً امداد الفتاوی، امداد الاحکام اور مولانا شعیب عالم صاحب کی کتاب " الفاظ طلاق کے اصول " کا، اور اکابر کے فتاوی مثلاً کفایت المفتی ، فتاوی رحیمیہ وغیرہ ، پس اپنے واقعہ سے متعلق بندہ یہ نتیجہ بیان کرتا ہے کہ بندے کے واقعہ میں ہر طرح کی نسبت الی الزوجہ مفقود ہے جو وقوعِ طلاق کے لیے شرط ہے،  نہ صراحۃً ، نہ دلالۃً ، نہ عرفًا،  نہ سوال کے جواب میں طلاق کہاہے، اور نہ ایسے قرائن مثلاً مذاکرۂِ طلاق یا حالتِ غضب یا لڑائی جھگڑا موجود ہیں جس سے غالب  قیاس وقوعِ طلاق کا بنتا ہو ؛ اس لیے بندے کا اپنے واقعہ سے متعلق صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ بندے کی نیت اپنی بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے طلاق کے تکلم کی نہیں تھی،  اس صورت حال میں بندے کو قسم کھانے کی ضرورت نہیں، لیکن بندہ پھر بھی حلفِ شرعی اٹھاتا ہے کہ اللہ کی قسم میری نیت اس پورے واقعہ میں کبھی بھی اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نہیں تھی ، نیز فون پر جو کچھ میرے اور میری بیوی کے درمیان ہوا، اس میں خارج میں موجود  سابقہ کیفیت نقالی ہے، اس غرض سے کہ اس طرح منہ بند کر کے الفاظِ طلاق بولنے سے مخاطب کو کیا سنائی دیتا ہے ؟ اور بندہ وقوع سے بچنے کے لیے " قال زید " کے الفاظ بھی کہنے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن عجلت میں بھول گیا جو دلیل ہے  عدمِ ارادۂِ طلاقِ زوجہ  کی۔

آپ کی ویب سائٹ پر موجود فتوی نمبر : 144305100887 بعنوان " ڈرامہ کی نقل کرتے ہوئے بیوی کو طلاق کے الفاظ کہنا " میں آپ نے عدمِ وقوع کا فیصلہ اس شرط پر کیا ہے کہ "خارج میں ایسا کوئی ڈرامہ ہو "جب کہ اس (ڈرامہ والے)  شوہر کی نقالی لغو ہوتی ہے، اور میری سابقہ کیفیت کی نقالی ایک مقصد کے تحت جو کہ اوپر مذکور ہوا ۔

اگر آپ اشکال کریں کہ میرے واقعہ میں معنوی نسبت یعنی خطاب موجود ہے، تو جواب یہ ہے کہ امداد الاحکام میں مذکور ہے:

" پس جن جزئیات میں اضافتِ صریحہ نہ ہونے کی وجہ سے عدمِ وقوع کا حکم مذکور ہے، اُن کا مطلب یہی ہے کہ اگر شوہر ارادۂِ طلاق ِزوجہ کا انکار کرے، اور قرائن بھی ارادۂِ طلاقِ زوجہ پر قائم نہ ہوں، تو طلاق واقع نہ ہوگی، لیکن اگر قرائن اضافت الی الزوجہ پر قائم ہوں، تو قضاءً بہر حال واقع ہے جب کہ اضافتِ معنویہ خطاب یا اشارہ موجود ہو ۔ " ( امداد الاحکام ، ج ٢ ، ص ٣٩٤ ، مکتبہ دار العلوم کراچی )۔

علامہ ظفر احمد عثمانی کی اسی عبارت کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے مفتی شعیب عالم صاحب دامت برکاتہم اپنی کتاب " الفاظ طلاق کے اصول " میں رقم طراز ہیں :

" اگر اضافتِ معنویہ ہو اور قرینہ بھی اضافت پر قائم ہو، تو قضاءً طلاق واقع ہے،  اور اگر قرینہ نہ ہو اور نیت بھی نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ۔ " ( الفاظ طلاق کے اصول ، تالیف : مفتی شعیب عالم صاحب مفتی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی ، ص ١٢٧ ) ۔

اور مفتی شعیب عالم صاحب نے اضافت کے بیان میں عملی تطبیق دیتے ہوئے فرمایا :

" پانچویں صورت : اگر معنوی اضافت موجود ہے، مثلاً شوہر اپنی بیوی سے مخاطب ہے، مگر وہ صاف لفظوں میں طلاق کی نسبت بیوی کی طرف نہیں کرتا ہے، نہ ہی اس کے الفاظ کسی ایسے سوال کے جواب میں ہیں جس میں اس کی بیوی کی طرف اضافت موجود ہے اور وہ طلاق کے کوئی ایسے کلمات بھی استعمال نہیں کرتا جن سے اس کے عرف میں طلاق دینے کا رواج ہے تو پھر معنوی قرائن و شواہد کو زیر غور لایا جائے گا، اگر کوئی ایسا قرینہ موجود ہو،  جس سے غالبِ قیاس یہ بنتا ہو کہ شوہر کی مراد اپنی بیوی کو طلاق دینا ہے، تو طلاق کے وقوع کا حکم کیا جائے گا، البتہ اگر شوہر کا بیان یہ ہو کہ اس کا ارادہ اپنی بیوی کو طلاق دینے کا نہ تھا تو اس سے حلف لیا جائے گا؛کیوں کہ قرینے کی وجہ سے اگر چہ وقوع طلاق کا احتمال قوی ہو جاتا ہے، مگر یقینی نہیں ہوتا اور اس کے کلام میں بہر حال طلاق کے علاوہ کی گنجائش موجود ہوتی ہے، اور جب اس کا کلام محتمل ہے، تو وہ رعایت کا بھی مستحق ہے، تاہم قرینے کی اور مضبوط قرینے کی موجودگی سے چوں کہ اس کے موقف کے برخلاف وقوع کا ذہن بنتا ہے؛ اس لیے جس قدر جان دار احتمال ہے اس کی تردید کے لیے دلیل بھی اسی قدر مضبوط ہونی چاہیے ، اس لیے حلفیہ اس کے بیان کا اعتبار کیا جائے گا، اور کوئی وجہ نہیں کہ حلف کے باوجود اسے سچا نہ سمجھا جائے ، اگر غور کیا جائے تو حلف کی شرط طلاق کے اصولوں کے ہم آہنگ ہے، کیوں کہ کنایات میں بھی جب فیصلہ شوہر کے بیان پر ہوتا ہے تو اس سے حلف لیا جاتا ہے۔ " ( الفاظ طلاق کے اصول ، ١٣٦)۔

پس معلوم ہوا کہ اضافتِ معنویہ مخاطب سے وقوعِ طلاق کے لیے قوی قرینہ ضروری ہے،  جو میرے واقعہ میں موجود نہیں ،اور مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کے کلام سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے،  چنانچہ مفتی صاحب کے حوالے سے مفتی شعیب عالم صاحب فرماتے ہیں:

" وقوعِ طلاق کی اضافت لفظی ضروری نہیں، بل کہ اضافتِ معنوی بھی کافی ہو جاتی ہے، اضافت معنویہ کے لیے نیت یا عرف دونوں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے " ( الفاظ طلاق کے اصول ، ١٢٩ - ١٣٠ ) ۔

اور آپ کی ویب سائٹ کا فتویٰ نمبر : 143909201910 اور فتوی نمبر : 144109203067 موجود ہے،  جن میں شوہر اور بیوی کی بات چیت اور لڑائی جھگڑا ہو رہا ہے،  پھر بھی آپ نے نسبت الی الزوجہ کے ثبوت کے لیے شوہر کی نیت کا اعتبار کیا ہے،  اور میرے واقعہ میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں،  اور میں بیان بھی کر چکا تھا کہ میں نے دل میں لفظِ طلاق کی نیت بیوی کی طرف نہیں کی، تو میرے مسئلہ میں بدرجہ اولی عدم وقوع ہوگا ، اور اس کی تائید میں حضرت مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی کا ایک فتوی پیش کرتا ہوں چنانچہ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی خالد سیف اللّٰہ رحمانی قاسمی صاحب کی کتاب الفتاوی کا سوال و جواب درجہ ذیل ہے :

"استهزاء طلاق سوال: - (1678) کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ عبداللہ کو اپنی بیوی کے ساتھ کچھ نا خوشگوار حالات پیش آئے ، وہ اس طرح کہ میں باہر سے آیا ہوا تھا ، بیوی نے مجھے اپنے والد کے آنے کی خبر دی ، میں نے اس سے استہزاءً  کہا کہ آئے، تو میں کیا مٹھائی تقسیم کروں؟ اس کے فوری بعد میں نے ان کی گھڑی رکنے کی خبر دی ، تو اس نے کہا: کیا میں میٹھائی تقسیم کروں؟ تو میں نے کہا: ” میں جس طریقہ سے بات کروں، تو تم بھی اس طریقہ سے بات کرو گی، تو اس نے کہا: ”جی ہاں ! تو میں نے اپنے فرزند سے کھیلتے ہوئے اور اپنے فرزند کی طرف دیکھتے ہوئے طلاق کہا، تو اس نے بھی طلاق کہا، پھر میں نے طلاق کہا، تو میری عورت نے بھی طلاق کہا ، تو میں نے بھی طلاق کہا ، صورتِ بالا کا شرعی حکم کیا ہے؟ (عبید اللہ ، سعید آباد، حیدر آباد )

جواب: ہنسی مذاق میں طلاق کے لفظ کا استعمال گناہ اور معصیت ہے ، اور اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے،  البتہ جو الفاظ آپ نے نقل کیے ہیں ان میں عورت کی طرف طلاق کی نسبت نہیں پائی جاتی ، اس لیے اگر واقعی آپ کا مقصد بیوی کو خطاب کرنا اور طلاق دینا نہیں تھا ، تو طلاق واقع نہیں ہوئی ، اور اگر عورت سے خطاب مقصود تھا ، تو طلاق واقع ہوگئی ، اس کے باوجود اگر ساتھ رہیں، تو پوری زندگی معصیت میں گزرے گی ، اس لیے جو کچی بات ہو اس پر قائم رہنا چاہیے ۔ واللہ اعلم ۔ ( کتاب الفتاوی ٥ / ٤٥ )۔

نوٹ : اس سوال میں شوہر بیوی سے ہی بات چیت کرتے ہوئے " طلاق " کا لفظ استعمال کر رہا ہے، لیکن قرائن نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ اس کی نیت پر موقوف ہے ، اگر آپ کو میرے واقعہ میں مذکور الفاظ "ات تو تلاک " کے لفظ " تو " سے غلط فہمی ہوئی ہو، تو وضاحت کردوں کہ یہ " تو " واو ساکنہ مجہولہ کے ساتھ ہے ، نہ کہ واو ساکنہ معروفہ کے ساتھ جو خطاب کا صریح صیغہ ہے، اور فتوی نمبر : 144410101194 کے استفتاء میں بندے نے بیوی کو " ات تو طلاق " کے الفاظ سنانے سے قبل " سنو ! " کا جو لفظ ذکر کیا ہے وہ عجلت میں لکھ دیا گیا ہے،  ورنہ بندے کا غالب گمان یہی ہے کہ ایسا لفظ نہیں کہا تھا؛ اس لیے پہلے استفتاء میں یہ لفظ مذکور نہیں ، اور اگر مان لیا جاوے کہ لفظ ہے بھی تو واقعہ کے سیاق و سباق سے بخوبی سمجھ آتا ہے کہ یہ لفظ " سنو ! " اس بات پر متفرع ہے کہ متکلم کا مقصد بیوی کو سنانے سے یہ تھا کہ اس طرح لفظِ " طلاق" بولنے سے مخاطب کو کیا سنائی دیتا ہے ۔

پس جب طلاق کے وقوع کی شرط اضافت الی الزوجہ من جمیع الوجوہ مفقود ہے اور نہ اضافت پر کوئی قرینہ ہے، تو شرط مفقود ہونے سے طلاق واقع نہ ہوگی ، اور پیش آمدہ واقعہ میں بندہ خارج میں موجود اپنی سابقہ کیفیت کی نقالی کر رہا تھا، اور مقصود یہ جاننا تھا کہ دوسرے کو کیا الفاظ سنائی دیتے ہیں، جو تکرارِ مسائلِ طلاق کے درجے میں ہیں، جس کی تائید فتاوی قاسمیہ میں موجود مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب کے مندرجہ فتوی سے ہوتی ہے ،  چنانچہ استاذ الاساتذہ و المفتیان حضرت اقدس مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب کی کتاب فتاوی قاسمیہ میں سوال جواب مذکور ہے جو درج ذیل ہے :

"کیا طلاق کے مسائل کے تکرار سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال [۲۲۳۳] : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہِ ذیل کے بارے میں: کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں، کیا طلاق پڑ جائے گی، پھر میں نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں، اس کے بعد ایک دو دفعہ یہ لفظ استعمال کیا ہو کہ کیا طلاق پڑ جاوے گی؟ اور دل میں یہ بھی کہا کہ طلاق نہیں پڑے گی، پھر میں نے دل میں یہ سوچا کہ اگر آدمی ہنس کر بھی طلاق دیتا ہے، تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، تو کہیں یہ طلاق بھی واقع تو نہیں ہوگئی،  اتنا جملہ میں نے سوچا ہے، اور یہ ساری باتیں بلانیتِ ثواب و غیر اختیاری طور پر حالتِ سفر و تنہائی ٹرین میں پیش آئی، تو حالاتِ مذکورہ کی وجہ سے ذہن میں تشویش بڑھنے کے سبب بندہ نے حضراتِ مفتیانِ کرام کی جانب رجوع کیا، لہٰذا استفتاء کا جواب واضح اور صاف مطلوب ہے۔

باسمہ سبحانہ تعالی المستفتی: محمد رفیق اڑیہ

الجواب وبالله التوفیق: یہ محض تخیلات ہیں، اگر اس طرح کی باتیں تنہائی کی حالت میں زبان سے بھی نکل جائیں، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ اس لیے کہ یہ سائل طلاق کے سمجھنے سمجھانے اور تکرار کے درجہ میں ہیں، اس کی وجہ سے شبہات میں نہ پڑیں۔

لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، ويقول: في كل مرة أنت طالق لم يقع. الأشباه والنظائر قديم مطبع ديوبندص ٤٥ ، جديد زكريا ٩١/١) لوكرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته، ويقول أنت طالق، ولا ينوي لا تطلق. (البحر الرائق، كونته ٢٥٨/٣ ، زكريا ٤٥١/٣) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم ( فتاوی قاسمیہ ، ١٤ / ٤٥٤ )۔

لہذا آپ سے درخواست ہے کہ بندے کے واقعہ سے متعلق دونوں استفتاء یعنی فتوی نمبر : 144402101212 ، فتویٰ نمبر : 144410101194 اور مذکورہ پوری تفصیل میں غور و فکر کر کے جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

واضح رہےکہ  حالیہ سوال اور اس سے قبل مذکورہ معاملہ سے متعلق کیے گئے دونوں سوالوں میں غور وتحقیق کے بعد بھی یہی نتیجہ نکلتاہے کہ "سائل کے اس جملہ"تُت تُ تلاک " سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے۔

جہاں تک نقالی اور اضافت کے متعلق بات ہے ،تو اس کا جواب سائل کو خود ہی سمجھ لینا چاہیے کہ اس جملہ  "تُت تُ تلاک "  میں بیوی کی طرف صریح اضافت- "تُت تُ"(یعنی تجھ کو) ،جب کہ مخاطب بیوی تھی،موجودہے، نیز اس جملہ میں تلات کے بجائے"تلاک" کہا ،اور یہ دونوں کام سائل نے سبقت لسانی سے کیے،جس کا اعتراف خود سائل نے کیا،چناں چہ    فتویٰ نمبر : 144410101194 میں سائل نے لکھاہےکہ:" اس بار بھی نقالی کرتے ہوئے سبقت لسانی سے دو مرتبہ "اُتْ تُ " کے بجائے " تُتْ تُ " اور ایک مرتبہ " تَلَاتَ " کے بجائے " تَلَاکْ " سبقت لسانی سے ادا ہو گیا ۔"

لہذا اب سائل مذکورہ جواب سے مطمئن رہے، اور  ایک ہی معاملہ سے متعلق سوال بار بار ارسال نہ کرے۔

فتح القدیر میں ہے:

"وطلاغ، وطلاك، وتلاك. ويقع به في القضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم بأن قال: امرأتي تطلب مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول هذا ويصدق ديانة."

(باب إيقاع الطلاق، ج: 4، ص: 7، ط: دار الفكر بيروت)

البحر الرائق میں ہے:

"ومنه الألفاظ المصحفة وهي خمسة: ‌تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك فيقع قضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم بأن قال امرأتي تطلب مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول: هذا ولا فرق بين العالم، والجاهل وعليه الفتوى."

(باب ألفاظ الطلاق، ج: 3، ص: 271، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع لعدم حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له....ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. ..‌ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها...أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن ‌لا ‌بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله."

(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق،٢٤٨/٣، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506101520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں