بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ترکوں کی لڑائی اور قتل وغارت گیری


سوال

کیا حدیث میں ترکی کے بارے میں ایسا کوئی ارشاد ہے کہ ایک وقت ایسا آئےگا کہ ترکوں کا بہت خون بہے گا، قتل و غارت ہوگی ؟ 

جواب

حدیث مبارک میں ترکوں کی علامات، اور ان سے آخر زمانے میں قتل وقتال کا ذکر ہے، چناں چہ" صحيح بخاري" میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا الترك، صغار الأعين، حمر الوجوه، ذلف الأنوف، كأن وجوههم المجان المطرقة..."

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو (ان کی علامت یہ ہوگی کہ ) ان کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی، چہرے سرخ ، اور ناک چپکی ہوئی ہو گی،گویا ان کے چہرےتہ بہ تہ کوٹی ہوئی   کما ن کی  مانند ہوں ۔( یہ تشبیہ چہرے کے موٹے ،بھرے ہوئے، اور  گولائی میں ہے)

(صحيح بخاري، كتاب الجهاد والسير، باب قتال الترك، الرقم: 2928، 4: 43، دار طوق النجاة، ط: الأولى 1422ھ)

یاد رہے کہ حدیث مبارک میں " ترک" سے مراد موجودہ" ترکی" ملک کے لوگ نہیں، بلکہ اس کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں، بعض کے نزدیک یہ یاجوج ماجوج قوم کے چچازاد ہیں، اور بعض کا کہناہے کہ نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ بعض کہتے ہیں :حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باندی قنطوراء کی اولاد میں سے ہیں۔

( فتح الباري لابن حجر،باب قتال الترك، 6: 104، دار المعرفة، بيروت 1379ھ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں