بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

نماز فجر میں سورج طلوع ہو جائے تو نماز کا حکم


سوال

طلوع کا وقت  6:56 ہے، فجر کی فرض نماز پڑھ کر جب سلام پھیرا اور موبائل میں وقت دیکھا تو ٹھیک 6:56 ہو رہے تھے۔ کیا نماز  کا اعادہ ضروری ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نماز فجرکے دوران سورج طلوع ہو جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر نماز کے دوران سورج طلوع ہوگیا تھا تو اس نماز کا اعادہ ضروری ہے اور اگر نماز کے دوران سورج طلوع نہیں ہوا تھا تو نماز ہوگئی، اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں، لہذا غالب گمان پر عمل کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وغروب، إلا عصر يومه) فلايكره فعله لأدائه كما وجب بخلاف الفجر.(قوله: بخلاف الفجر إلخ) أي فإنه لايؤدي فجر يومه وقت الطلوع؛ لأنّ وقت الفجر كلّه كامل فوجبت كاملة، فتبطل بطرو الطلوع الذي هو وقت فساد".

(كتاب الصلاة،ج: 1، صفحہ: 372، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102270

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں