بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

طلباء کو سبق اچھا سنانے پر زکوۃ دینا


سوال

کیا مدرسہ کے امدادی طلباء کو جو سبق صحیح سنائیں ،ان کو زکوۃ کے پیسے دیے جا سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی مسلمان غریب مسکین کو  جو صاحب نصاب نہ ہو ،  زکوۃ کی نیت سے رقم دینے کی صورت میں زکوۃ ادا ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ  مسئولہ میں مدارس کے  مستحق زکوۃ   طلبہ کو  انعام  کے عنوان سے  دی جانے والی رقم ان کی اچھی کارکردگی کا عوض  یا اجرت نہیں بلکہ  یہ حوصلہ افزائی کے لیے  بطور احسان اور تبرع دی جاتی ہے،لہذا   ان   طلبہ کےاچھا سبق  سنانے پر ان کو انعام کے نام پر  زکوۃ کی نیت سے رقم  دینا جائز ہے، اور اس طرح  زکوۃ ادا   ہوجاتی ہے۔ 

درر الحكام شرح غرر الاحكام میں ہے:

"من ‌أعطى ‌مسكينا ‌دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة، فإنها تجزئه اهـ."

(كتاب الزكاة، شروط وجوب الزكاة، 174/1، ط: دار إحياء الكتب العربية)

البحر الرائق میں ہے:

"من ‌أعطى ‌مسكينا ‌دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزئه."

(کتاب الزكاة، شروط أداء الزكاة، 228/2، ط:دار الكتاب الإسلامي)

مجمع الانہر میں ہے:

"من ‌أعطى ‌مسكينا ‌دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه لأن العبرة لنية الدافع لا لعلم المدفوع إليه إلا على قول أبي جعفر."

(کتاب الزكاة، شرط صحة أداء الزكاة، 196/1، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505102029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں