بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

تخارج کی تعریف اوراس کے متعلق چند مسائل


سوال

طرازی شرح سراجی میں تخارج کی تعریف بحوالہ شریفیہ یہ لکھی گئی ہے(تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث بشئ معلوم من التركة) (ترجمہ:ایک یاچند وارثوں کا ترکہ میں سے کوئی معین چیز لے کر باقی ترکے سے دست بردار ہوجانا)،اورعنایہ کی عبارت ہے(التخارج وهو أن يصطلح الورثة على إخراج بعضهم من الميراث بمال معلوم)۔

(1)میرا سوال یہ ہےکہ کیا مصالح علیہ کاترکے میں سے ہی ہوناضروری ہے؟کیاوہ ترکے سے باہر کوئی چیز نہیں ہوسکتی؟کیاان دونوں عبارتوں میں تعارض نہیں؟نیز اگرطرازی کی بات درست نہیں یاایک صورتِ کابیان ہے،تو کیااسے تعریف کہنا درست ہےحالاں کہ تعریف جامع اورمانع ہونی چاہیے۔

(2)طرازی کی عبارت ہے:عنوان:(تخارج کابیان )اگر کوئی وارث ترکہ میں سےکوئی مناسب متعین چیز لے کر اپنے حصہ وراثت سے دست بردار ہوناچاہےاور دوسرے ورثاءبھی بطیب خاطر ایسا کرنے پر راضی ہوں تو ایسا کرناجائز ہے،اس عبارت میں مناسب ومتعین کالفظ کہا ہے،اس مناسب لفظ سے کیامراد ہے؟

(3)اگرکوئی وارث مال دار ہو اوروہ مرحوم کی وراثت میں دل چسپی نہیں رکھتا ہو اور ترکہ دیگر وارثوں کے لیے چھوڑنا چاہتاہو،اورکوئی معمولی چیزلے کر  ترکےسےالگ ہوجاتاہو،مثلاًقلم یاکوئی کتاب لے کر الگ ہوجاتاہے،چاہےوہ مرحوم کی ملکیت ہویانہ ہو، کیایہ عمل درست ہے؟

جواب

(1)واضح رہےکہ تخارج علم الفرائض(میراث) کی ایک اصطلاح ہے،ورثاء میں آپس کی رضامندی سےکسی وارث کاکوئی چیز لےکربقیہ ترکہ سےدست بردار ہوجانےکوتخارج کہلاتاہے،لہٰذاصورتِ مسئولہ میں مصالح علیہ (جس چیزپروارث سےصلح کی جاۓ اس )کاترکہ میں سےہوناضروری نہیں ہے،بلکہ کوئی وارث ترکہ سے خارج اپنےذاتی مال  میں سے بھی کسی چیز کو  مصالِح علیہ قرار دےسکتاہے،اس میں شرعاًکوئی قباحت نہیں ہے،باقی سوال میں ذکرکردہ تخارج کی دونوں تعریفوں میں بظاہرکوئی تعارض نہیں ہے ،اور طرازی شرح سراجی میں جوتعریف بحوالہ شریفیہ نقل کی گئی ہے،اس میں ( عن الميراث بشئ معلوم من التركة)کی قید اتفاقی ہے،یعنی اکثر تخارج میں صلح ورثاء کےدرمیان مرحوم کی میراث میں سےکسی ایک چیزپرہوتی ہے،گویاطرازی میں تخارج کی عمومی صورت کابیان ہے کہ عام طورپرمصالح علیہ مرحوم کی میراث سےہوتا ہے،اوراس لیے مذکورہ تعریف درست ہے۔

(2)طرازی کی عبارت میں جومناسب ومتعین لفظ کاذکرہے،اس  میں لفظ(متعین )سےمرادیہ ہےکہ جومصالِح(وارث)تركہ میں سےکسی چیز(مصالِح علیہ)پرصلح کرناچاہتاہے،اس کوتمام ورثاء کی رضامندی سےمتعین کرناضروری ہے،اورلفظ(مناسب)قیداتفاقی ہےکہ باہمی رضامندی سے جوبھی مقدار مناسب سمجھیں طےکریں۔

(3)باہمی رضامندی سےمعمولی چیزپربھی تخارج کیاجاسکتاہے،اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم."

(‌‌كتاب الصلح، فصل في التخارج، ج:5، ص:644، ط: سعيد)

فتح القدير میں ہے:

"(وإذا كانت ‌الشركة ‌بين ‌ورثة فأخرجوا أحدهم منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض جاز قليلا كان ما أعطوه إياه أو كثيرا) لأنه أمكن تصحيحه بيعا."

(كتاب الصلح ،فصل في التخارج،ج:8، ص:439، ط: دارالفكر،بيروت)

 مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وفي التنوير: وإذا أخرجوا واحدا فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ‌ما ‌أعطوه ‌من ‌مالهم ‌غير ‌الميراث المشترك بينهم، وإن كان ما أعطوه له مما ورثوه من مورثهم فعلى قدر ميراثهم."

(كتاب الصلح، فصل في الدين المشترك والتخاريج، ج:2، ص:320، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

الفقہ المیسرمیں ہے:

"أما إذا كان التخارج على شيء من المال من غير التركة فإن المتخارج يكون قد باع نصيبه من التركة نظير الثمن الذي دفعه سائر الورثة من أموالهم الخاصة لتخلص التركة كلها لهم.وأما إذا تخارج وارث واحد مع وارث آخر على أن يترك له نصيبه، فإن التركة تقسم بين الورثة جميعًا على اعتبار أنه لم يحصل تخارج ويؤول نصيب المتخارج بعد ذلك لمن دفع له البدل."

(‌‌كتاب الفرائض، ‌‌كيفية تقسم التركة بعد التخارج عند من يقول به، ج:5،20، ط: مدار الوطن للنشر، الرياض)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وفي دعوى ‌التخارج لا بد من بيان أنواع التركة وتحديد ضياعها وبيان الأمتعة والحيوانات وبيان قيمتها ليعلم أن الصلح لم يقع على أزيد من حصته فإن التركة لو أتلفها بعض الورثة ثم صولح مع غير المتلف على أزيد من قيمتها لا يصح."

(كتاب الدعوى، الفصل الثاني فيما يتعلق بدعوى العين المنقول، ج:4، ص:7، ط:دار الفكر بيروت)

وفیہ ایضاً:

"إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس."

(كتاب الصلح، الباب الخامس عشر في صلح الورثة والوصي في الميراث والوصية، ج:4، ص:268، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411100944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں