بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کے مشترکہ دکانوں کاکرایہ صرف بھائیوں کے استعمال کرنےکاحکم


سوال

ہم دو بھائی اور تین بہنیں  ہیں ہمارا گھر ہمارے والد کا ہے جو ان کی وفات کے بعد میری والدہ کے نام ہو ایہ  گھر نیچے  دکانیں اور اوپر دومنزلہ گھر ہے ، میری والدہ بھی فوت ہوگئی ہے ، سوال یہ ہے ان سالوں میں میرابھائی اور میں نیچے کی دکانوں کا کرایہ ہم دونوں بھائی استعمال کرتےتھے ، ہم یہ چاہتے ہیں کہ جب یہ گھر سیل ہو توہم اپنی بہنوں کوبھی کرایہ دینا شروع کردیں ، تقریبا 36000کرایہ آتاہے ، اس کی تقسیم کا طریقہ کار کیاہوگی ، والدکے ورثاء میں  دوبیٹے تین بیٹیاں اور بیوہ تھی، پھر اس کے بعد والدہ کا انتقال ہواورثاء میں دوبیٹے تین بیٹیاں ہیں ، پھر اس کے بعد بیتے کاانتقال ہواورثاء میں : بیوہ دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔والدہ اور والد کےوالدین پہلے فوت ہوچکے ہیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میںسائل اور  اس کے مرحوم بھائی نے دکانوں  کا جو کرایہ حاصل کیاہے  وہ تمام ورثاء کا حق ہے ، سائل اور اس کے مرحوم بھائی نے اپنے حصہ سے زائد جتنا کرایہ استعمال کیاہےوہ ان کے ذمے قرض ہے  ، ان دونوں  بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ کرایہ کی رقم میں سے بہنوں کو ان کا شرعی حصہ ادا کریں ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے ۔

آئندہ جب تک جائیداد فروخت نہیں ہو جاتی دکانوں کا کرایہ بھی تمام ورثاء (بشمول مرحوم بھائی کے)میں شرعی حساب سے تقسیم کرنا ضروری ہے۔

الدرالمختار میں ہے:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته۔"

(كتاب الغصب 6/200ط:سعید)

شرح المجلہ میں ہے:

"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي و إن أخذ ولو علی ظن أنہ ملکه وجب علیه ردہ عینا إن کا ن قائما وإلا فیضمن قیمته إن کان قیمیا۔"

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية 1 /51 ، مادۃ 97  ط:رشدیہ) 

 مرحوم کے ترکے کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ  ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعداور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعدباقی  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو140حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کے زندہ بیٹے کو 40حصے،مرحوم کی ہرایک بیٹی کو20 حصے، مرحوم کے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ کو 5حصے ، اس کے ہرایک بیٹے کو 14،14حصے اور اس کی بیٹی کو 7حصے  ملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت :140/7 والدین 

بیٹابیٹابیٹی بیٹی بیٹی
22111
مرحوم40202020

میت: 20/40/8 بیٹا  مف 1/2

بیوہبیٹابیٹابیٹی 
17
514147

100روپےمیں سے مرحوم کے زندہ بیٹے کو28.571،مرحوم کی ہرایک بیٹی کو14.285 روپے، مرحوم کے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ کو 3.571 روپے ، اس کے ہرایک بیٹے کو10روپے اور اس کی بیٹی کو5روپے ملیں گے ۔

نوٹ : 36000روپے میں سےمرحوم کے زندہ بیٹے کو10285.714روپے،مرحوم کی ہرایک بیٹی کو5142.857 روپے، مرحوم کے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ کو 1285.714 روپے ، اس کے ہرایک بیٹے کو3600روپے اور اس کی بیٹی کو1800روپے ملیں گے ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں