بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی شرعی تقسیم سے پہلے کسی وارث کاحصہ لے کر ایک طرف ہونا


سوال

ہمارے دادامرحوم نے ایک کمپنی بنائی تھی،جب1978 میں ان کی وفات  ہوئی توان کے بھائی نے ان کی ایک بیٹی (جو کہ شادی شدہ تھی) کے علاوہ باقی تمام بچوں کو اس کمپنی میں حصہ دار بنایا۔اس وقت میرے والد صاحب اکیلے کمپنی چلارہے تھے،وقت گزرتا گیا،بہن بھائی بڑے ہوگئے۔شادیاں ہوگئیں،حج بھی کرلیے۔ 1990 میں تین بھائیوں نے علیحدگی کاکہاتو میرے والد صاحب نے ان کو پیسے دے کر علیحدہ کردیا۔1998 میں جب قانونًا ان تینوں کو کمپنی سےعلیحدہ ہونے کا کہاتو انہوں نے کہاکہ ہمیں 1990 میں کم پیسے ملے تھے ۔تو میرے والد صاحب نے ان کی ڈیمانڈ کے مطابق ان کو ایک دکان بھی دے دی۔وقت کے ساتھ باقی بہن بھائی بھی قانونی طور پر الگ ہوگئے ۔جوتین بھائی سب سے پہلے علیحدہ ہوئے  تھےان کے درمیان 2009 میں نااتفاقی ہوگئی، جھگڑے پڑگئے ۔میرے والد صاحب نے پھر ان کو پیسے دیے اور جھگڑے ختم کرواکران کو علیحدہ کروادیا۔اب 23 سال بعد  وہ ہم پریہ دعوی کررہے ہیں کہ آپ کی کمپنی میں ہماراحصہ ہے جو ہمیں چاہیے۔

ان کا یہ دعوی کرنا شرعا کیساہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والد نے اپنے بھائیوں کو ان کی رضامندی سے اپنے والد مرحوم کے ترکہ میں سے حصے دے دئے تھے تو ترکہ کی  مذکورہ کمپنی میں شرعاً ان کاکوئی حصہ نہیں ہے۔لہذا ان کامطالبہ شرعاً غلط ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس فإن كان الذي في يده بقية التركة جاحدا يكتفى بذلك القبض وإن كان مقرا غير مانع لنصيبه فلا بد من تجديد القبض وهو أن يرجع إلى موضع فيه العين ويمضي وقت يتمكن فيه من قبضه، كذا في الكافي.

(کتاب الصلح ، الباب الخامس  في صلح  الورثة ، ج:4،ص:268، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144305100440

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں