بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1442ھ- 29 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کے بغیر وتر کی جماعت


سوال

کیا بغیر تراویح کے وتر کی جماعت ہو سکتی ہے؟

جواب

وتر کی جماعت تراویح کے تابع ہو کر مسنون ہے، لہذا تراویح پڑھے بغیر  وتر کی جماعت کرنا مسنون نہیں۔

البتہ اگر کسی جگہ عشاء کی فرض نماز، تراویح اور وتر سب باجماعت ادا ہورہے ہوں، اور کوئی مقتدی تاخیر سے پہنچے، جس کی وجہ سے تراویح کی کچھ رکعات نکل جائیں تو وہ فرض پڑھ کر جماعت میں شامل ہوجائے، اس دوران اگر وتر کی نماز شروع ہوجائے اور اس کی تراویح کی رکعات باقی ہوں تو بھی وہ وتر کی نماز باجماعت ادا کرلے، اس کے بعد تراویح کی چھوٹی ہوئی رکعات ادا کرلے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 47):
"(ولو لم يصلها) أي التراويح (بالإمام) أو صلاها مع غيره (له أن يصلي الوتر معه) بقي لو تركها الكل هل يصلون الوتر بجماعة؟ فليراجع".

و في الرد:

"(قوله بقي إلخ) الذي يظهر أن جماعة الوتر تبع لجماعة التراويح وإن كان الوتر نفسه أصلاً في ذاته؛ لأن سنة الجماعة في الوتر إنما عرفت بالأثر تابعةً للتراويح، على أنهم اختلفوا في أفضلية صلاتها بالجماعة بعد التراويح، كما يأتي". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109202516

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں