بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1445ھ 20 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا ٹرین یا ہوائی جہاز کا سفر بہنوئی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے؟


سوال

ٹرین یا ہوائی جہاز کا سفر بہنوئی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جب کہ بہن بھی ساتھ ہو ؟

جواب

عورت کے لیے سفر شرعی میں  محرم کا ہونا ضروری ہے اور سفر شرعی  اڑتالیس میل یعنی تقریباً (۲۴ء۷۷)سوا ستترکلو میٹرہوتاہے؛ لہذا ایسا سفر بغیر محرم کے کرنا  (اگرچہ بہن ساتھ ہو) جائز نہیں ہوگا، اور بہنوئی محارم میں سے نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: لایحل لامرأة مسلمة تُسافر مسیرة لیلة إلا ومعها رجلٌ ذو حُرمة منها". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں