بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

طوطوں پر زکاۃ


سوال

 میں نے کچھ طوطے پالے ہوئے ہیں، میری نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے ہوں گے تو میں ان بچوں کو بیچ کر اپنی ضروریات پوری کروں گا، صرف بچے بیچتا ہوں ان کے ماں باپ رکھ لیتا ہوں کہ آئندہ سال پھر بچے دیں گے تو میں انہیں بیچوں گا کیا ان پر زکات ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہوں، یا  طوطوں کے بچوں کی  مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زائد ہو تو اس صورت میں قمری مہینوں کےاعتبار سے  زکاۃ  کا سال مکمل ہونے پر جتنی مالیت کے طوطوں کے  بچے موجود ہوں، ان کی اس وقت کی قیمتِ فروخت کے حساب سے کل مالیت نیز اس کے علاوہ اگر نقدی، سونا، چاندی یا دیگر مالِ تجارت موجود ہو تو ان سب اموال کی مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔البتہ جو طوطے محض افزائش نسل کے لیے رکھے ہوں، ان کی فروختگی مقصود ہی نہ ہو تو ایسے طوطوں کی مالیت پر زکاۃ لازم نہ ہوگی۔

اور جو  طوطے فروخت کردیے جائیں، ان سے حاصل ہونے والی آمدن سال پورا ہونے پر محفوظ رہی تو اس پر بھی زکاۃ واجب ہوگی، یعنی سال کے دوران جتنے طوطے یا ان کے بچے فروخت ہوگئے، اور ان  سے حاصل شدہ آمدن، زکاۃ کا سال مکمل ہونے سے قبل اگر خرچ ہوگئی، تو خرچ شدہ پر کوئی زکاۃ لازم نہ ہوگی، البتہ اگر مذکورہ آمدن  کل یا اس میں سے کچھ محفوظ ہو تو زکوة  کے حساب میں اس کو بھی شامل کیا جائے گا، اور کل  مال کا ڈھائی فیصد بطور زکوة ادا کرنا واجب ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والفعلي ما سواهما ويكون الاستنماء فيه بنية التجارة أو الإسامة، ونية التجارة والإسامة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة أو الإسامة."

(کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، الفصل الثانی فی العروض، ج: 1، ص: 174، ط: دار الفكر)

و فیہ ایضاً:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات ... إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب."

(کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، الفصل الثانی فی العروض، ج: 1، ص: 179، ط: دار الفكر)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"أن ‌الزكاة تجب ‌في ‌عروض التجارة إذا حال الحول عندنا."

(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 190، دار المعرفة۔بيروت،لبنان)

المحیط البرہانی میں ہے:

"‌الزكاة واجبة ‌في ‌عروض التجارة بظاهر قوله تعالى: {خذ من أمولهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها وصل عليهم إن صلوتك سكن لهم والله سميع عليم} (التوبة: 103) واسم المال يتناول عروض التجارة."

(‌‌الفصل الثالث في بيان مال الزكاة، ج: 2، ص: 245، ط: دار الكتب العلمية، لبنان۔بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509102343

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں