بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

"ٹوٹا ہوا دل اللہ کے قریب ہوتا ہے" کیا یہ حدیث ہے؟


سوال

 ایک حدیث  کے بارے میں دریافت کرنا تھا، میں نے ایک حدیث ایک کتاب میں پڑھی تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ(( ٹوٹا ہوا دل اللہ کے قریب ہوتا ہے)) یہ حدیث میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی جو بدنظری کے عنوان پر تھی جن کے مصنف حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ کے خلیفہ تھے،  حضرت کا نام مجھے یاد نہیں ہے،  برائے  مہربانی  اس حدیث اور اس پر صحت اور ضعف کے بارے میں بھی بتاکر ممنون  فرمائیں !

جواب

»ٹوٹا ہوا دل اللہ کے قریب ہوتا ہے» بطور حدیث   یہ الفاظ   ہمیں کہیں نہیں مل سکے۔ موضوع روایات سے متعلق ملا علی قاری(المتوفی:1014هـ) رحمہ اللہ   کی  کتاب   ’’الأسرار المرفوعة‘‘ میں اس کے قریب قریب  یہ الفاظ موجود ہیں: " میں ٹوٹے ہوئے  دلوں کے پاس ہوتا ہوں" ۔   ملا علی قاری رحمہ اللہ  اس کے متعلق   لکھتے ہیں کہ اِن ہی الفاظ میں  کوئی  حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔

اصل میں یہ ایک  اسرائیلی روایت   کا مفہوم ہے،وہ اسرائیلی روایت یہ ہے   کہ :

’’حضرت موسی  علیہ السلام  نےفرمایا کہ:  اے میرے رب! میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟  اللہ تعالی نے فرمایا کہ : ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس مجھے تلاش کرو۔‘‘ 

اس کو امام احمد(المتوفى:241هـ)رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الزهد‘‘ میں ذکر کیا ہے ۔ اور ابن ابی الدنیا (المتوفى:281هـ)نے   ’’الهمّ والحزن‘‘اور ابونعیم(المتوفى:430 هـ)  رحمہ اللہ نے’’حلیه‘‘  میں  یہ روایت حضرت داود علیہ السلام کی نسبت سے ذکر کیا ہے، دونوں کے الفاظ میں تھوڑا سا فرق ہے۔ ’’حلیه‘‘کے الفاظ یہ  ہیں کہ:  

’’حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے اللہ! اگر میں آپ کو تلاش کروں، تو آپ مجھے کہاں ملیں گے؟ اللہ تعالى نے ارشاد فرمایا: (میں) ان لوگوں کے پاس ملوں گا، جن کے دل میرے خوف سے  شکستہ ہوں۔‘‘

اور’’إحياء  العلوم‘‘  میں امام غزالی (المتوفى:505هـ) رحمہ اللہ نے اس روایت  کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف  منسوب کرکے بیان کیا ہے۔

   اس اسرائیلی روایت کی   تائید مسلم شریف کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’قیامت کے دن اللہ تعالى فرمائیں گے: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی۔ وہ شخص کہے گا کہ اے میرے رب! میں آپ کی عیادت کیسے کرتا، حال آں کہ آپ تو رب العالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پالیتے۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ وہ شخص کہے گا: اے میرے رب ! میں آپ کو کھانا کیسے کھلاتا، حال آں کہ آپ تو  رب العالمین ہیں۔ اللہ تعالى فرمائیں گے: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا، تم اگر اس کو کھانا کھلاتے تو تم اسے میرے پاس پاتے۔ اے ابن آدم! میں نے تم سے پانی مانگا تھا، تم نے مجھے پانی نہیں پلایا، وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں آپ کو کیسے پانی پلاتا، حال آں کہ آپ تو  رب العالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے:  میرے فلاں بندہ نے تم سے پانی مانگا تھا، اگر تم اس کو پلاتے تو تم اسے میرے پاس پاتے۔‘‘

اور  اسرائیلی روایت  کی تائید جب  قرآن و حدیث سے ہوتی ہو تو  اس کو بیان کرنا جائز ہے، اس  لیے بہت سارے شارحینِ حدیث اور دیگر علماءِ امتِ مسلمہ نے  اس اسرائیلی روایت کو تائید  اور استدلال کے طور پر ذکر کیا ہے؛  لہذا   »ٹوٹا ہوا دل اللہ کے قریب ہوتا ہے»  یا « اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتے ہیں، یا بستے ہیں»   یہ روایت بیان کرنا  اور اس استدلال کرنا جائز ہے، لیکن  ان الفاظ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف حدیث کے طور پر منسوب  کرکے بیان کرنا جائز  نہیں۔

’’الأسرالمرفوعة‘‘ میں ہے:

’’حديث: أنا عند المنكسرة قلوبهم من أجلي.

قال السخاوي: ذكره الغزالي في البداية انتهى. ولا يخفى: أن لكلام في هذا المقام لم يبلغ إلى غاية، قلت: وتمامه أنا عند المندرسة قبورهم لأجلي. ولاأصل لهما في المرفوع.‘‘

 (الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة للملا علي القاري: (ص: 117، 118) برقم (70)،ط. دار الأمانة / مؤسسة الرسالة، بيروت)

 روایة أحمد بن حنبل:

’’عن عمران القصير قال: " قال موسى بن عمران: أي رب، أين أبغيك؟ قال: ابغني عند المنكسرة قلوبهم؛ إني أدنو منهم كل يوم باعًا، و لولا ذلك لانهدموا.‘‘

(أخرجه الامام أحمد في الزهد في زهد موسى عليه السلام (ص:64) برقم (391)،ط. دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى: 1420هـ=1999م)

رواية ابن أبي الدنيا:

’’عن عبد الله بن شوذب، قال: قال داود النبي صلى الله عليه وسلم: «أي رب أين ألقاك» ؟ قال: «تلقاني عند المنكسرة قلوبهم».‘‘

( أخرجه ابن أبي الدنيا في كتابه «الهمّ والحزن» في «حديث داود عليه السلام إلى ربه» (1/ 56) برقم (61)،ط. دار السلام، القاهرة، الطبعة: الأولى: 1412=1991)

رواية أبي نعيم:

’’عن وهب بن منبه، قال: قال داود عليه السلام: " إلهي! أين أجدك إذا طلبتك؟ قال: عند المنكسرة قلوبهم من مخافتي.‘‘

(أخرجه أبو نعيم في الحلية في ترجمةوهب بن منبه (4/ 31)،ط. السعادة - بجوار محافظة مصر، 1394هـ=1974م)

رواية مسلم:

’’عن أبى هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن الله عز وجل يقول يوم القيامة: يا ابن آدم! مرضت فلم تعدنى، قال: يا رب! كيف أعودك وأنت رب العالمين، قال: أما علمت أن عبدى فلانًا مرض فلم تعده، أما علمت أنك لو عدته لوجدتنى عنده، يا ابن آدم! استطعمتك فلم تطعمنى، قال: يا رب! وكيف أطعمك وأنت رب العالمين، قال: أما علمت أنه استطعمك عبدى فلان فلم تطعمه، أما علمت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندى، يا ابن آدم! استسقيتك فلم تسقنى، قال: يا رب! كيف أسقيك وأنت رب العالمين، قال: استسقاك عبدى فلان فلم تسقه، أما إنك لو سقيته وجدت ذلك عندى».‘‘

(أخرجه الامام مسلم في باب فضل عيادة المريض (8/ 13) برقم (6721)،ط.دار الجيل بيروت، دار الأفاق الجديدة ـ بيروت)

وفي فيض القدير:

’’و أما البلاء فقيد للنفوس يمنعها من الميل لغير المطلوب ، فإذا دام ذابتالأهوية وانكسرت القلوب فوجدوا الله أقرب إليهم من حبل الوريد كما قال تعالى في بعض الكتب الإلهية : أنا عند المنكسرة قلوبهم من أجلي، أي: على الكشف منهم و الشهود.‘‘

(فيض القدير شرح الجامع الصغير: «حرف الهمزة» (1/ 519)، ط. المكتبة التجارية الكبرى، مصر، الطبعة الأولى :1356)

وفي مرقاة المفاتيحشرح مشكاة المصابيح:

’’«قال: أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده، أما علمت أنك لو عدته لوجدتني» ) أي: لوجدت رضائي (عنده؟) : وفيه إشارة إلى أن للعجز والانكسار عنده تعالى مقدارًا و اعتبارًا، كما روي: أنا عند المنكسرة قلوبهم لأجلي.‘‘

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: كتاب الجنائز، باب عيادة المريض وثواب المرض (3/ 1123)،ط. دار الفكر، بيروت، الطبعة: الأولى: 1422هـ = 2002م)

وفي لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح:

’’كما في الحديث القدسي: (أنا عند المنكسرة قلوبهم لأجلي).‘‘

(لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح: كتاب الرقاق، باب فضل الفقراء وما كان من عيش النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- (8/ 467)،ط.دار النوادر، دمشق،الطبعة:الأولى، 1435 هـ = 2014 م)

وفي مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين لابن القيم (المتوفى: 751هـ):

’’الوجه الرابع: أن حصول مراتب الذل والانكسار للتائب أكمل منها لغيره، فإنه قد شارك من لم يذنب في ذل الفقر، والعبودية، والمحبة، وامتاز عنه بانكسار قلبه كما في الأثر الإسرائيلي: يا رب أين أجدك؟ قال: عند المنكسرة قلوبهم من أجلي، ولأجل هذا كان أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد لأنه مقام ذل وانكسار بين يدي ربه.‘‘

(مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين لابن القيم (المتوفى: 751هـ): فصل الخلاف في اشتراط عدم العود إلى الذنب (1/ 306)،ط. دار الكتاب العربي، بيروت، الطبعة الثالثة: 1416 هـ = 1996م)

بداية الهداية للغزالي:

’’و مهما انكسر قلبك حزنًا على تقصيرك في حق دينك، فهو صاحبك وملازمك؛ إذ قال الله تعالى: (أنا عند المنكسرة قلوبهم من أجلي).‘‘

(بداية الهداية للغزالي: القسم الثالث، القول في آداب الصحبة (1/ 21)،مصدر الكتاب :موقع الوراق)

 فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144212201750

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں