بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹورنامنٹ کے لیے انٹری فیس لینے کا حکم


سوال

1) ٹورنامنٹ میں مختلف ٹیموں سے انٹری فیس  لی جاتی ہے،  کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟(اس انٹری فیس سے  میدان کا کرایہ، جیتنے والی ٹیم  اور اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے لیے  انعام وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔)

2) اگرکوئی  شخص اپنی زمین ٹورنامنٹ منعقد کرانے  کے لیے دے دے  اور ہر سال اس بندے کو اس کے عوض مخصوص رقم  دی جاتی ہے،  کیا ان پیسوں کو لینا زمین مالک  کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1) جائز کھیل کے لیے کھیل کی جگہ کا کرایہ  کا لینا اور جیتنے والوں کے لیے انعام وغیرہ کا اہتمام کرنا  جائز ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں  جائز  کھیل کے ٹورنامنٹ  میں شرکت کرنے والی ٹیموں سے  انٹری فیس لینا جائز ہے، البتہ ناجائز کھیل کے لیے لینا درست نہیں۔

2) صورتِ مسئولہ میں  جائز کھیل کے ٹورنامنٹ کے لیے جگہ کرائے پر دینا جائز ہے، بشرط کہ اس میں کھیلے جانے والے میچز میں شرعاً کوئی خرابی نہ ہو، جیسے جوے کا لین دین وغیرہ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ." ﴿المائدة: ٢﴾

"اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔"(ترجمہ از بیان القرآن)

  تکملۃ فتح الملہم شرح صحیح المسلم میں ہے:

"فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام اور مكروه تحريماً، . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه."

( کتاب الرؤیا، ج:4، ص:435،  ط:  دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں