بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹوپی پر ماشاء اللہ لکھنا


سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ  چھوٹے بچوں کی گرم ٹوپی جس کے اوپر ماشاءاللہ لکھاہوا ہے کیا اس کا فروخت کرنا اور فیکٹری میں بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اوربےادبی کا اندیشہ تو نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اللہ کا نام  (بلکہ مطلقاً کوئی بھی حروف تہجی )ایسی جگہ لکھنا کہ جہاں بے ادبی کا اندیشہ ہو درست نہیں۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں چھوٹے بچوں کی ٹوپی پر" ماشاء اللہ" لکھنے کی صورت میں اس حیثیت سے تو بے ادبی نہیں کہ ٹوپی سر پہ پہنی جاتی ہے، لیکن اس حیثیت سے اس میں بے ادبی کا اندیشہ موجود ہے کہ بچے   اس ٹوپی کا ادب نہیں کریں گے، اور عموماً نا سمجھ ہونے کی بنا  پر  ٹوپی اتار کر پھینک دیتے ہیں،یا اسی طرح دھلنے میں یا بعد میں پرانی ہونے کی صورت میں ٹوپی کو پھینک دیا جاتا ہے، نیز ٹوپی پہن کر بیت الخلاء بھی جانا ہوتا ہے اس سے بھی بے ادبی پائی  جائے گی؛ اس لیے  ٹوپی پر ماشاءاللہ لکھنے سے اور ایسی ٹوپی فروخت کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’إذا كتب اسمَ ’’فرعون‘‘ أو كتب ’’أبو جهل‘‘ على غرض، يكره أن يرموه إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمةً، كذا في السراجية‘‘.

(٥/ ٣٢٣، ط: رشيدية)

وفیه أیضاً:

’’ولو كتب القرآن على الحيطان و الجدران، بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، و بعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوي قاضيخان‘‘.

( الباب الخامس في آداب المسجد، و ما كتب فيه شيئ من القرآن، أو كتب فيه اسم الله تعالى، ٥/ ٣٢٣، ط: رشيدية)

 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308100292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں