بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹوپی کے بجائے چھوٹا رومال باندھ کر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

ہماری مسجد میں بہت سے لوگ ٹوپی کے بجائے رومال پہن کر نماز پڑہتے ہیں اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

بڑا رومال جو بطور عمامہ کے باندھا جاتا ہے اسے باندھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جیبی سائز کا چھوٹا رومال جو ٹوپی کے متبادل کے طور پر سر پر لپیٹ لیا جاتا ہے تاکہ سر ننگا نہ رہے تو اگر واقعۃً ٹوپی دست یاب نہ ہو تو ننگے سر نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ اسی رومال کو سر پر ڈال کر نماز پڑھ لی جائے، لیکن ٹوپی کے بجائے اسی رومال پر اکتفا کرنے کی عادت بنالینا اچھا نہیں ہے، کیوں کہ ایک تو اس سے پورا سر صحیح طریقہ سے ڈھانپا نہیں جاسکتا ہے، بلکہ سر کا کچھ حصہ چھپ جاتا ہے اور کچھ حصہ کھلا رہتا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ اس رومال کو باندھنے سے آدمی کی جو ہیئت بنتی ہے وہ نمازی کی شان اور وقار کے خلاف ہے، کیوں کہ نمازی بحالتِ نماز اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتاہے اور اللہ تعالیٰ کے در بار میں ایسے لباس میں حاضر ہونا ناپسندیدہ ہے جس لباس کو پہن کر معزز صلحاء کے مجمع یا مجلس میں حاضر ہونے میں ناگواری ہوتی ہو یا اس کو باعثِ عیب و عار سمجھا جاتا ہو، چنانچہ جس طرح مفتیانِ کرام نے پلاسٹک والی ٹوپیوں میں نماز پڑھنے کو ناپسند قرار دیا ہے اسی طرح یہ چھوٹا رومال باندھ کر نماز پڑھنا بھی پسندیدہ نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اس طرح کا چھوٹا رومال باندھ کر کسی معزز مجمع یا مجلس میں حاضر ہونے کو کوئی سلیم الطبع شخص پسند نہیں کرتا ہے۔

﴿ یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [الأعراف:۳۱]

ترجمہ:اے بنی آدم ہر نماز کے وقت زینت اخیتار کیا کرو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها، وإلا لا.

(قوله: وصلاته في ثياب بذلة) بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر، حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر، والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112201513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں