بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عمداً کیے گئے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں یا نہیں؟


سوال

میں نے ایک تفسیر میں پڑھا تھا کہ اللہ کے نزدیک گناہ کا کرنا  جہالت ہے، اگر کوئی شخص گناہ کو گناہ جانتا ہو اور اس کے عذاب کے بارے میں بھی جانتا ہو، اسے سب کچھ علم ہے، مگر پھر بھی جان بوجھ کر گناہ کرتا رہتا تھا اب اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کرے چاہے وہ گناہ بڑا ہو یا چھوٹا اور چاہے جان بوجھ کرہو یا انجانے میں اگر وہ نزع کی حالت سے پہلے پہلے صدقِ دل سے اپنے اس گناہ پر نادم ہوکر توبہ استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس گناہ کو معاف فرمادیتے ہیں، گناہ کی معافی اور توبہ کی قبولیت کے لیے یہ لازم نہیں کہ آدمی نے برائی انجانے میں کی ہو، بلکہ عمداً   گناہ کا مرتکب بھی سچی توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرماتے ہیں۔

آپ  نے جس آیتِ مبارکہ کی جانب اشارہ کیاہے اس کا ترجمہ اور اس کی تفسیر ذیل میں نقل کی جاتی ہے:

 قرآنِ کریم میں  ارشادہے:

{اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰئِكَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا} [النساء: 17]

ترجمہ:" توبہ جس کا قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہ تو ان ہی کی ہے جو حماقت سے کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر قریب ہی وقت میں توبہ کرلیتے ہیں، سو ایسوں پر تو خدا تعالیٰ توجہ فرماتے ہیں ۔ اور اللہ خوب جانتے ہیں حکمت والے ہیں "۔

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں لکھتے ہیں:

"کیا قصدو اختیار سے کیا ہوا گناہ معاف نہیں ہوتا":

 یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قرآنِ مجید میں لفظ  "بجهالة"  کا وارد ہوا ہے، اس سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ انجانے اور نادانی سے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی، جان بوجھ کر کرے تو توبہ قبول نہیں ہو گی، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جو تفسیر اس آیت کی بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ "جهالة"سے اس جگہ پر یہ مراد نہیں ہے کہ اس کو گناہ کے گناہ ہونے کی خبر نہ ہو ، یا گناہ کا قصد وارادہ نہ ہو، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کو گناہ کے انجامِ بد اور اخروی عذاب سے غفلت اس گناہ پر اقدام کا سبب ہو گئی، اگرچہ گناہ کو گناہ جانتا ہو اور اس کا قصد و ارادہ بھی کیا ہو ۔

دوسرے الفاظ میں جہالت کا لفظ اس جگہ حماقت و بے وقوفی کے معنی میں ہے، جیسا کہ خلاصۂ  تفسیر میں مذکور ہوا ہے، اس کی نظیر سورۂ یوسف میں ہے، حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا: {هل عملتم مافعلتم بیوسف واخیه اذ انتم جٰهلون} [۲۱:۹۸]  اس میں بھائیوں کو جاہل کہا گیا ہے، حال آں کہ انہوں نے جو کام کیا وہ کسی خطا یا نسیان سے نہیں، بلکہ قصد و ارادہ سے جان بوجھ کر کیا تھا، مگر اس فعل کے انجام سے غفلت کے سبب ان کو جاہل کہا گیا ہے۔

ابو العالیہ اور قتادہ نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر متفق تھے کہ "کل ذنب أصابه عبد فهو جهالة عمداً کان أوغیره"  ”یعنی بندہ جو گناہ کرتا ہے خواہ بلاقصد ہو یا بالقصد بہرحال جہالت ہے۔“

امام تفسیر مجاہد نے فرمایا: "کل عامل بمعصیة الله فهو جاهل حین عملها" ”یعنی جو شخص کسی کام میں اللہ تعالی کی نافرمانی کر رہا ہے وہ یہ کام کرتے ہوئے جاہل ہی ہے۔“ اگرچہ صورت میں بڑا عالم اور باخبر ہو ۔ (ابن کثیر)

اور ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں فرمایا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے حدیث میں ارشاد ہے: "لایزني الزاني وهو مؤمن"، ”یعنی زنا کرنے والا مؤمن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا۔“  مراد یہ ہے کہ جس وقت وہ اس فعلِ بد میں مبتلا ہوا ہے اس وقت وہ ایمانی تقاضہ سے دور جا پڑا۔

اسی لیے حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ: "أمور الدنیا کلها جهالة"  ”یعنی دنیا کے وہ سارے کام جو اللہ تعالی کی فرماں برداری اور اطاعت سے خارج ہوں سب کے سب جہالت ہیں ۔“  اور وجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے والا تھوڑی دیر کی لذت کو ہمیشہ باقی رہنے والی لذت پر ترجیح دے رہا ہے اور جو اس تھوڑی دیر کی لذت کے بدلہ میں ہمیشہ ہمیشہ کا عذابِ شدید خریدے وہ عاقل نہیں کہا جا سکتا، اس کو ہر شخص جاہل ہی کہے گا، اگرچہ وہ اپنے فعلِ بد کو جانتا ہو اور اس کا قصد و ارادہ بھی کر رہا ہو ۔

خلاصہ یہ ہے کہ انسان کوئی گناہ قصداً کرے یا خطاءً دونوں حالت میں گناہ جہالت ہی سے ہوتا ہے، اسی لیے صحابہ و تابعین اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قصداً کسی گناہ کا مرتکب ہو اس کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ (بحر محیط)

آیتِ مذکورہ میں ایک بات قابل غور یہ ہے کہ اس میں قبولِ توبہ کے لیے یہ شرط بتلائی ہے کہ قریب زمانہ میں ہی توبہ کر لے، توبہ کرنے میں دیر نہ کرے، اس میں قریب کا کیا مطلب ہے، اور کتنا زمانہ قریب میں داخل ہے؟ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ایک حدیث میں خود اس طرح بیان فرمائی ہے:

"إن الله یقبل توبة العبد مالم یغرغر"،  حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ”اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس پر موت اور نزعِ روح کا غرغرہ طاری نہ ہو جائے۔“

اور محدث ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مؤمن موت سے ایک مہینہ پہلے اپنے گناہ سے توبہ کرے، یا ایک دن یا ایک گھڑی پہلے توبہ کرے، تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائیں گے، بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ سچی توبہ کی گئی ہو۔ (ابن کثیر)

خلاصہ یہ کہ "من قریب"  کی تفسیر جو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی پوری عمر کا زمانہ قریب ہی میں داخل ہے، موت سے پہلے پہلے جو توبہ کر لی جاوے قبول ہوگی۔ البتہ غرغرۂ  موت کے وقت کی توبہ مقبول نہیں ۔

اس کی توضیح جو حضرت حکیم الامت تھانوی نے تفسیر بیان القرآن میں بیان فرمائی ہے کہ موت کے قریب دو حالتیں پیش آتی ہیں، ایک تو ایاس و ناامیدی کی جب کہ انسان ہر دوا و تدبیر سے عاجز ہو کر یہ سمجھ لے کہ اب موت آنے والی ہے، اس کو حالت "یاس" بالیاء سے تعبیر کیا گیا ہے، دوسری حالت اس کے بعد کی ہے، جب کہ نزعِ روح شروع ہو جائے اور غرغرہ کا وقت آ جائے، اس حالت کو  "باس" بالباء کہا جاتا ہے، پہلی حالت یعنی حالتِ یاس تک تو  "من قریب" کے مفہوم میں داخل ہے اور توبہ اس وقت کی قبول ہوتی ہے، مگر دوسری حالت یعنی حالتِ باس کی توبہ مقبول نہیں، جب کہ فرشتے اور عالمِ آخرت کی چیزیں انسان کے سامنے آ جائیں؛ کیوں کہ وہ "من قریب" کے مفہوم میں داخل نہیں۔

اس آیت میں "من قریب"  کا لفظ بڑھا کر اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا کہ انسان کی ساری عمر ہی ایک قلیل زمانہ ہے اور موت جس کو وہ بعید سمجھ رہا ہے اس کے بالکل قریب ہے۔

قریب کی یہ تفسیر جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی گئی ہے، دوسری آیت میں خود قرآن نے بھی اس کی طرف اشارہ فرما دیا ہے، جس میں یہ بتلایا ہے کہ موت کے وقت کی توبہ مقبول نہیں ۔

خلاصہ مضمونِ آیت کا یہ ہو گیا کہ جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے خواہ جان بوجھ کر قصد وارادہ سے کرے یا خطا و ناواقفیت کی بنا پر کرے، وہ بہرحال جہالت ہی ہوتا ہے، ہر ایسے گناہ سے انسان کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالی نے اپنے ذمہ لے لیا ہے بشرطیکہ موت سے پہلے پہلے سچی توبہ کر لے۔

اپنے ذمہ لے لینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کا وعدہ فرما لیا ہے جس کا پورا ہونا یقینی ہے، ورنہ اللہ تعالی کے ذمہ کوئی فرض واجب یا کسی کا حق لازم نہیں ہوتا، پہلی آیت میں تو اس توبہ کا ذکر تھا جو اللہ تعالی کے نزدیک قابل قبول ہے، دوسری آیت میں اس توبہ کا بیان ہے جو قابل قبول نہیں ۔

اس میں بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی توبہ قابلِ قبول نہیں جو عمر بھر جرأت کے ساتھ گناہ کرتے رہے اور جب موت سر پر آ پہنچی اور نزعِ روح شروع ہو گیا، موت کے فرشتے سامنے آ گئے، اس وقت کہنے لگے کہ ہم اب توبہ کرتے ہیں، انہوں نے فرصتِ عمر گنوا کر توبہ کا وقت کھو دیا، اس لیے ان کی توبہ مقبول نہیں ہو گی، جیسے فرعون اور آلِ فرعون نے غرق ہونے کے وقت پکارا کہ ہم ربِ موسی و ہارون پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو جواب ملا کہ کیا اب ایمان لاتے ہو جب ایمان لانے کا وقت گزر چکا ؟

اور یہی مضمون آیت کے آخری جملہ میں ارشاد فرمایا ہے: ان لوگوں کی توبہ بھی قابل قبول نہیں جن کو حالتِ کفر پر موت آ گئی اور عین نزعِ روح کے وقت ایمان کا اقرار کیا، یہ اقرار و ایمان بے وقت اور بے سود ہے، ان کے لیے عذاب تیار کر لیا گیا ہے۔

توبہ کی تعریف اور حقیقت:

 دونوں آیتوں کی لفظی تفسیر کے بعد ضروری بات یہ باقی رہتی ہے کہ توبہ کی تعریف کیا ہے؟ اور اس کی کیا حقیقت اور کیا درجہ ہے؟

امام غزالی نے ’’احیاءالعلوم‘‘ میں فرمایا کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں:

پہلا یہ کہ کسی گناہ کا کبھی ارتکاب نہ ہو، یہ تو فرشتوں کی خصوصیت یا انبیاءعلیہم السلام کی ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ گناہوں پر اقدام کرے اور پھر ان پر اصرار جاری رہے، کبھی ان پر ندامت اور ان کے ترک کا خیال نہ آئے یہ درجہ شیاطین کا ہے۔  تیسرا مقام بنی آدم کا ہے کہ گناہ سر زد ہو تو فوراً اس پر ندامت ہو، اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم ہو ۔

اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سر زد ہونے کے بعد توبہ نہ کرنا یہ خالص شیاطین کا کام ہے؛ اس لیے باجماعِ امت توبہ فرض ہے، قرآنِ مجید کا ارشاد ہے:

”یعنی ایمان والو! اللہ تعالی سے توبہ کرو سچی توبہ، تو کچھ عجب نہیں کہ اللہ تعالی تمہارے گناہوں کا کفارہ کر دیں اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔“

کریم الکرماء اور رحیم الرحماء کی بارگاہِ رحمت کی شان دیکھیے کہ انسان ساری عمر اس کی نافرمانی میں مبتلا رہے، مگر موت سے پہلے سچے دل سے توبہ کر لے تو صرف یہی نہیں کہ اس کا قصور معاف کر دیا جائے، بلکہ اس کو اپنے محبوب بندوں میں داخل کر کے جنت کا وارث بنا دیا جاتا ہے۔

حدیث میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا اللہ کا محبوب ہے اور جس نے گناہ سے توبہ کر لی وہ ایسا ہو گیا کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔“

بعض روایات میں ہے کہ جب بندہ کسی گناہ سے توبہ کرے اور وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہو جائے، تو صرف یہی نہیں کہ اس پر مواخذہ نہ ہو، بلکہ اس کو فرشتوں کے لکھے ہوئے نامہ اعمال سے مٹا دیا جاتا ہے، تاکہ اس کی رسوائی بھی نہ ہو ۔

البتہ یہ ضروری ہے کہ توبہ سچی اور توبۃ النصوح ہو ، جس کے تین رکن ہیں:

اول اپنے کیے پر ندامت اور شرم ساری، حدیث میں ارشاد ہے: "إنما التوبة الندم"  ”یعنی توبہ نام ہی ندامت کا ہے“۔

 دوسرا رکن توبہ کا یہ ہے کہ جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کو بھی اس سے باز رہنے کا پختہ عزم و ارادہ کرے۔

تیسرا رکن یہ ہے کہ تلافی مافات کی فکر کرے، یعنی جو گناہ سر زد ہو چکا ہے اس کا جتنا تدارک اس کے قبضہ میں ہے اس کو پورا کرے، مثلاً نماز روزہ فوت ہوا ہے تو اس کو قضا کرے فوت شدہ نمازوں اور روزوں کی صحیح تعداد یاد نہ ہو، تو غور و فکر سے کام لے کر تخمینہ متعین کرے، پھر ان کی قضا  کرنے کا پورا اہتمام کرے، بیک وقت نہیں کر سکتا تو ہر نماز کے ساتھ ایک ایک نماز قضاءِ عمری کی پڑھ لیا کرے، ایسے ہی متفرق اوقات میں روزوں کی قضا  کا اہتمام کرے، فرض زکاۃ ادا نہیں کی تو گزشتہ زمانہ کی زکاۃ بھی یک مشت یا تدریجاً ادا کرے، کسی انسان کا حق لے لیا ہے تو اس کو واپس کرے، کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس سے معافی طلب کرے۔

لیکن اگر اپنے کیے پر ندامت نہ ہو، یا ندامت تو ہو مگر آئندہ کے لیے اس گناہ کو ترک نہ کرے، تو یہ توبہ نہیں ہے، گوہزار مرتبہ زبان سے توبہ توبہ کہا کرے"۔ (معارف القرآن 2/342دارالعلوم کراچی)

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا  ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ} [النحل: 119]

ترجمہ:" پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت سے برا کام کر لیا پھر اس کے بعد توبہ کر لی اور (آئندہ کے لیے) اپنے اعمال درست کر لیے تو آپ کا رب اس (توبہ) کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت والا ہے"۔ (بیان القرآن )

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"توبہ سے گناہ کی معافی عام ہے خواہ بے سمجھی سے کرے یاجان بوجھ کر":

آیت{ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْءَ بِجَــهَالَةٍ} میں لفظِ جہل نہیں، بلکہ جہالت استعمال فرمایا ہے،  جہل تو  علم کے بالمقابل آتا ہے، اور بےعلمی بے سمجھی کے معنی میں ہے، اور  جہالت کا لفظ جاہلانہ حرکت کے لیے بولا جاتا ہے اگرچہ جان بوجھ کر کرے،  اس سے معلوم ہوگیا کہ توبہ سے گناہ کی معافی بے سمجھی یا بے اختیاری کے ساتھ مقید نہیں"۔ (معارف القرآن 5/414مکتبہ دارالعلوم کراچی)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں