بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے یہ کہنا کہ''تم یہ سمجھو کہ میں مسلمان نہیں


سوال

میرے بچے کی شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں،دوبچیاں ہیں ،ایک کی عمر ڈھائی سال اور دوسری کی چار سال ہے،میاں بیوی کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے میری بہو اپنے والدین کے گھر جاکر بیٹھ گئی،بچیاں تقریباً ایک ماہ سے ہمارے پاس ہیں، جن کی اسے کوئی فکر نہیں ہے،میرا بیٹا دو دفعہ اس کو لینے گیا تو اس نے یہ شرط رکھی کہ میں اپنا اور آپ کا کھانا بناؤں گی،آپ کے والدین کی ذمہ داری شرع کے حساب سے میرے اوپر نہیں ہے،بیٹے نے کہاکہ ہمارے سارے خاندان میں سب بہویں اس طرح رہ رہی ہیں،آپ کو کیا ہو گیا ہے؟لیکن بہو بضد تھی کہ میں شرع کے حساب سے آپ کے والدین کی ذمہ داری سے بریءالذمہ ہوں اور شرع پر زور دیتی رہی، تو اس پر میرے بیٹے نے کہا کہ "تم یہ سمجھو کہ میں مسلمان نہیں ہوں اس لیے شرع پر عمل نہیں کر رہا"،اب لڑکی والے کہہ رہے ہیں کہ آپ کا لڑکا یعنی میرا بیٹا مسلمان نہیں رہا،لہذا نکاح  ختم ہوگیا ہے،آپ سے التماس ہے کہ اس مسئلہ میں ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ مىں مذكوره الفاظ کہنےسے سائل كا بيٹا كافر نہیں ہوا،مياں بيوی کا نکاح بدستور باقی ہے،تاہم  مذکورہ کلمات نہایت خطر ناک ہیں ،سائل کا بیٹا صدق دل سے توبہ واستغفار کرے اور  آئندہ کے لیے اس طرح کے الفاظ کہنے سے اجتناب کرے۔ سائل کی بہو کا سائل کے بیٹےسےاس بات پر ضد کرنا کہ آپ کے والدین کی خدمت میں نہیں کروں گی اخلاقاً درست نہیں ہے،کیوں کہ عورت کے ذمہ  سسر،ساس کی خدمت  اگرچہ شرعاً لازم نہیں ہے، لیکن ان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خوشگوار ازدواجی زندگی اصول کے ترازو سے تول تول کر چلنے سے نہیں بلکہ اخلاقی اقدار کی پاس داری سے ہی گزاری جاتی ہے،کتنی ایسی چیزیں ہیں جو شوہرکے ذمہ لازم نہ ہونےکے باوجود شوہراخلاقاً کرتا ہے،بیوی کا علاج معالجہ،نان نفقہ کے علاوہ بہت سی سہولت کی اشیاءشوہر بیوی کو فراہم کرتا ہےجو کہ اخلاقاً کرتا ہے،شرعاًلازم نہیں، لہذا اَخلاقی طورپر عورت کو اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اُس کے شوہر کے والدین ہیں ،شوہر کے مخدوم ہیں، جس طرح اَپنے والدین کی راحت کا خیال رکھتی ہے، اِسی طرح شوہر کے والدین کی خدمت اور اُن کو راحت پہنچانا اُس کی اخلاقی ذمہ داری میں شامل ہے۔ لیکن اگر بیوی اس کے لیے آمادہ نہ ہوتو شوہر اسے مجبور نہیں کر سکتا،بلکہ الگ انتظام کرنا شوہر کے ذمہ لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رجل ضرب امرأة فقالت المرأة: لست بمسلم فقال الرجل: ‌هبي أني لست بمسلم قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - لا يصير كافرا بذلك"

‌‌(الباب التاسع في أحكام المرتدين ،مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام277/2ط:دارالفکر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144305100202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں