بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد عدت نہیں کی اس کا حکم


سوال

اگر کوئی عورت طلاق کے بعد عدت میں نہیں بیٹھی اور اب ایک سال بعد اسے یاد آیا کہ میں عدت میں بیٹھو ں اور اس نے مجھ سے کہا کہ میں عدت میں بیٹھی ہوں دو حیض پورے ہو گئے ہیں تو میں نے کہا عدت تو ختم ہو گئی، تم سے گناہ سرزد ہو گیا ہے، ہو سکتا ہے اس کا کوئی کفارہ ہو ۔

مہربانی کر کے رہنمائی فرمائیں کہ صرف توبہ استغفار کرے گی یا کفارہ بھی دے گی ؟۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں اگر کوئی شخص مر جائے تو اس کو غسل کفن کے بعد کمرے کے بیچ میں چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ میت کے قریبی رشتہ دار اس کے سرہانے دائیں بائیں چاروں طرف کھڑے ہو کر سورہ ملک سورہ یسین اور بقرہ پڑھیں ،باقاعدہ تعداد گن کے پڑھتے ہیں، مثلا بقرہ سات بار پڑھی جائی گی، سورہ ملک 20 یا 30  بارپڑھی جائی گی ۔ پڑھنی کھڑے ہوکر ہیں ۔ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں بیٹھ کر بھی تو پڑھ سکتے ہیں ؟ اور جس کمرے میں میت رکھی ہوئی ہو وہاں نیچے بیٹھ کر قرآن پڑھ سکتے ہیں، اس طرح میت اوپر ہوگی اور قرآن پاک نیچے ہو جائے گا؟

جواب

1)صورت  مسئولہ میں جس عورت کے شوہرنے اس کو طلاق دے دی تو اس پر   عدت  گزارنالازم ہے، اور شوہر کےطلاق دینے کے وقت سے ہی خود بخود اس کی عدت شروع ہوجاتی ہے،  اگر اس نے عدت کی پابندیوں کی رعایت نہیں کی تو وہ گناہ گار ہوگی، تین حیض گزر جانے (اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہوتو وضع حمل تک )کے بعد عدت خود بخود مکمل ہوجائے گی، لہذا مذکورہ عورت کے لیے اب ایک سال بعد عدت میں بیٹھنے سے اس کی عدت میں نہ بیٹھنے کے گناہ کی تلافی نہیں ہوگی، اس کو چاہیے کہ عدت کے احکام کی رعایت نہ کرنے پر صدق دل سے اس گناہ پر توبہ واستغفار کرے ۔

2)میت کےگرد جمع ہوکر اس کے سرہانے کے  قریب کھڑے ہوکرسورۃ البقرہ،سورۃ یسن،سورۃالملک   خاص تعداد میں پڑھنا کھڑے ہوکر ہوخواہ بیٹھ کر  اس کا کوئی ثبوت نہیں، البتہ میت کے لیے خوب سے خوب قرآن مجید پڑھا جائے اور اس کے علاوہ خوب نفلی عبادات کی جائیں  تاکہ میت کو اس کا ثواب پہنچتا رہے ،اسی طرح میت کے قریب بیٹھ کر قرآن مجید پڑھنا جب کہ میت کسی چارپائی وغیرہ پر ہوتو اس صورت میں قرآن مجید نیچے ہوگا اس میں  بے ادبی ہے، لہذا ایسا کرنا مناسب نہیں ہے ۔

فتاوى ہندية   میں ہے :

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية. وإن شكت في وقت موته فتعتد من حين تستيقن بموته، كذا في العتابية".

(كتاب الطلاق ،الباب الثالث عشر في العدة،1/ 531،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

شعب الایمان للبیہقی  میں  ہے:

"ومنها أن لايحمل على المصحف كتاب آخر و لا ثوب و لا شيء إلا أن يكون مصحفان فيوضع أحدهما فوق الآخر فيجوز."

(باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان، التاسع عشر من شعب الإيمان هو باب في تعظيم القرآن،2/ 319،ط. دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

" و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عنالمحاذاة) فلايكره، قاله الكمال  

(قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط.

(قوله لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية ط، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر (قوله إلا أن يكون) ما ذكر من المصحف والكتب؛(قوله: مرتفع) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلاً ط قلت: أي بما تنتفي به المحاذاة عرفاً، ويختلف ذلك في القرب والبعد، فإنه في البعد لاتنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقاً، تأمل".

(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة، وما ويكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء،1 / 655، ط: سعيد)

البحر الرائق ميں هے:

"‌والأصل ‌فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذالك".

(کتاب الحج،باب الحج عن الغیر،63/3،دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144403100695

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں