بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاقوں کا حکم


سوال

 حمل کے دوران بیوی کو طلاق دی تھی ، لیکن  اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا: مجھے طلاق  نہیں چاہئے اور  بچے کی پیدائش تک ملاپ رہا ، چار سال کے بعد پھر طلاق دی تھی، پھر سات سال کے بعد شدید صدمے کی حالت میں پھر طلاق دی ہے ،کیا اب اس رشتے میں گنجائش ہے اور میری بیوی نے منظور بھی نہیں کیا کہ طلاق ہوئی ہے ، اور کہہ رہی ہے کہ  ابھی بھی رشتے میں گنجائش ہے،  اگر کچھ گنجائش ہے تو حل بتائیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں طلاق دینے اور نہ دینے کا حق مرد کو حاصل ہے، عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ اپنے آپ پر  طلاق واقع کرے  ، یا شوہر کی دی گئی طلاق کو نفی کرے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہے، اب دونوں کا ساتھ رہنا یا ازدواجی تعلقات قائم کرنا شرعا ناجائز اور حرام ہے، تاہم اگر مطلّقہ    عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرلے، پھر وہ  دوسرا شخص اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد از خود  طلاق دے دے، یا  عورت  خود طلاق لے لے ،یا شوہر کا انتقال ہوجائے  تو پھر اس کی  عدت گزار کر پہلے شوہر (سائل)   سےدوبارہ  نکاح کرنا جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌(وحل ‌طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) لأن الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا."

[كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:232، ط: سعيد]

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."

[كتاب الطلاق، ج:1، ص:374، ط:دار الكتب العلمية]

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101165

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں