بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کا شرعی حل


سوال

میرا اپنے شوہر سے اکثر جھگڑا رہتا تھا، ایک مرتبہ غصے میں شوہر نے مجھے اور اپنی دوسری بیوی کو کہا کہ "جاؤ، میں نے تم دونوں کو تین طلاق دی،" اب ہم دونوں چاہتی ہیں کہ دوبارہ گھر آباد ہوجائے۔

برائے کرم کوئی حل تجویز فرمادیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً صحیح اور درست ہے کہ شوہر نے سائلہ اور  اپني دوسری بیوی  کو یہ کہا کہ "جاؤ، میں نے تم دونوں کو تین طلاق دی" تو ان الفاظ سے دونوں پر شرعاً تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، دونوں  شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں، اب نہ تو رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔

البتہ اگر عدت ( پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش  ) کے بعد دونوں مطلقہ کسی  دوسرے مرد سے نکاح کریں اور اس سے ازدواجی تعلق (صحبت) بھی قائم ہوجائے، پھر وہ دوسرا شوہر فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو اس دوسرے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد مذکورہ دونوں مطلقہ کا اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرنا جائز ہوگا، اس سے قبل نکاح کرنے کی شرعاً کوئی صورت نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لو قال لثلاث نسوة له أنتن طوالق ثلاثا أو طلقتكن ثلاثا يقع على كل واحدة ثلاث ولا ينقسم بخلاف ما لو قال أوقعت بينكن ثلاثا فإنها تقسم بينهن فتقع على كل واحدة طلقة كذا في غاية السروجي۔"

(الفتاوي الهندية، ج: 1، كتاب الطلاق، الباب الثاني في ايقاع الطلاق، الفصل الاول في الطلاق الصريح، ص: 361، ط: المكتبة الرشيدية)

فتح القدیر میں ہے:

"(قوله وطلاق البدعة) ما خالف قسمي السنة، وذلك بإن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو مفرقة في طهر واحد أو ثنتين كذلك أو واحدة في الحيض أو في طهر قد جامعها فيه أو جامعها في الحيض الذي يليه هو، فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا۔"

(فتح القدير، المجلد3، كتاب الطلاق، باب طلاق السنة، ص: 468، ط: شركة مكتبه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔"

(فتاوي هنديه، المجلد1، كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقه و ما يتصل به، ص: 473، ط: مكتبه رشديه)

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144305100257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں