بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق، فعلی رجوع مکروہ ہے


سوال

میں نے جولائی کے ماہ میں اپنی اہلیہ کو یہ کہا کہ "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"  یہ الفاظ میں نے ایک مرتبہ ڈرانے کی نیت سے کہے ،ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد ہم دونوں میاں  کی طرح رہتے رہے، لیکن زبانی طور پر  رجوع  نہیں کیا، پھر تین ماہ بعد میں نے طیش میں آکر اپنی اہلیہ کو مخاطب کرکے کہا کہ "میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں "اور پھر دوبارہ یہی الفاظ دھرائے کہ "میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں"۔

تو اس صورت میں طلاق ہوچکی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی اہلیہ  کو جولائی کے مہینہ میں یہ کہا تھا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھی، اس کے بعدسائل نے زبانی طور پر تو رجوع نہ کیا،  لیکن عدت کے اندر دونوں میاں بیوی کے تعلقات کے ساتھ رہے تو یہ رجوع درست ہو گیا، لیکن اس طرح رجوع کرنا مکروہ تھا۔

پھر تین ماہ بعد جب سائل نے غصہ کی حالت میں بیوی کو دو بار یہ الفاظ کہے کہ "میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں" تو اس سے بیوی پر مزید دو طلاقیں بھی واقع  ہو گئیں اور بیوی سائل پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی، اب رجوع کی گنجائش نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔

مطقہ عورت  عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، عدت کے بعد اگر مطلقہ دوسرے شخص سے نکاح کر لے ارور دوسرا شخص صحبت کے بعد طلاق دے دے یااس کا انتقال ہو جائے یا بیوی اس سے طلاق لے لے تو پھر اس کی عدت گزرنے کے بعد دوبارہ پہلے شوہر سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔

الجوهرة النيرة  میں ہے:

"وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد".

(كتاب الرجعة2/ 50ط:المطبعة الخيرية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠]...وإنما تنتهي الحرمة وتحل للزوج الأول بشرائط منها النكاح...ومنها الدخول من الزوج الثاني، فلا تحل لزوجها الأول بالنكاح الثاني حتى يدخل بها، وهذا قول عامة العلماء".

(کتاب الطلاق، فصل: وأماحکم الطلاق البائن،3 /189-187، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144306100856

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں