بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 02 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

تجارتی نیت سےخریدےگئےپلاٹ پرسودےکی منسوخی کےبعدزکوٰۃ


سوال

میں نےاپنےایک عزیزدوست سے فروری 2009ء میں ایک پلاٹ خریدا، پراپرٹی ڈیلرنےہمیں شام کےوقت پلاٹ دکھایا اورطےپایاکہ تمام واجبات جون 2009ءتک اداکردئیےجائینگے، میں نےپلاٹ کےتمام واجبات ادا کردئیےاورپلاٹ کی رقم کی 2009ء اور2010ء کی زکوٰۃ بھی ادا کردی، جولائی 2010 میں مجھے پتہ چلاکہ ڈیلرنےمجھےدھوکہ دیا ہےاورمذکورہ پلاٹ کسی اورکوبھی فروخت کیا ہے، ہم نےڈیلرسےمذاکرات کئے اورمشکل سےوہ راضی ہواکہ مجھےپلاٹ کی رقم واپس کرے۔اب سوال یہ ہےکہ میں پلاٹ کی رقم پرسن 2011ء کی زکوٰۃ ادا کروں یانہیں اس لیےکہ رقم تقریباً دوسال ڈیلرکےپاس رہی اوربغیرکسی نفع کےرقم اس نےمجھےواپس کی ؟

جواب

مذکورہ پلاٹ اگرتجارت کی نیت سےخریداتھا تواس کی مالیت پرزکوٰۃ واجب تھی اوراب پلاٹ کاسودامنسوخ ہونےکےبعدپلاٹ چونکہ سائل کی ملکیت میں نہیں رہااس لیےاب پلاٹ کی مالیت پرزکوٰۃ نہیں البتہ موجود رقم اگربقدرِنصاب ہواورسال اس پر گزرچکاہوتواس رقم پرزکوٰۃ واجب ہوگی۔


فتوی نمبر : 143101200232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے