بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کے لیے مسنون اور بابرکت وقت


سوال

ایک مولانا صاحب نے تجارت کے  مسئلہ میں بیان کیا کہ طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب کے بعد دکان کھولے رکھنے اور تجارت کرنے  میں شیطان کی نحوست داخل ہوجاتی ہے، اور ایسی تجارت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، کیا یہ درست ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے تجارت کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں  کیا، کسی وقت بھی کاروبار کیا جا سکتا ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ تجارت کی وجہ سے شریعت کے دیگر اوامر متاثر نہ ہوں، تمام فرائض، واجبات، سنن وغیرہ کو بجا لاتے ہوئے کاروبار کیا جائے، ہاں البتہ تجارت کے لیے برکت کا وقت یہ  ہے کہ صبح نماز کے  فوری بعد  اس  کی ابتدا  کی  جائے،  دکان کھولی جائے، اس سے کاروبار میں برکت آجاتی ہے،  حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اس وقت میں برکت نازل ہونے کی دعا فرمائی ہے، اسی طرح حضرت صخر رضی اللہ عنہ اپنی تجارت کا مال صبح سویرے روانہ کیا کرتے تھے۔بہر کیف! مولانا صاحب کی بات درست نہیں ہے، دکان کسی وقت بھی کھولی جا سکتی ہے، اس میں کوئی نحوست نہیں آتی۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن صخر بن وداعة الغامدي رضي الله عنه، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «اللهم بارك لأمتي في بكورها» " «وكان إذا بعث سرية، أو شيئا بعثهم من أول النهار» ، وكان صخر تاجرا. فكان ‌يبعث ‌تجارته أول النهار، فأثرى وكثر ماله. رواه الترمذي، وأبو داود، والدارمي.

(قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: اللهم بارك)  أي: أكثر الخير .

(لأمتي في بكورها) ; أي: صباحها وأول نهارها، والإضافة لأدنى ملابسة، وهو يشمل طلب العلم والكسب والسفر وغيرها.

 (بعثهم من أول النهار)  أي: مطابقة لدعائه.

(فكان ‌يبعث ‌تجارته)  أي: ماله.

(أول النهار، فأثرى) ;أي: صار ذا ثروة  أي: مال كثير.

(وكثر ماله) : عطف تفسير لقوله: أثرى. قال المظهر: المسافرة سنة في أول النهار، وكان صخر هذا يراعي هذه السنة، وكان تاجرا يبعث ماله في أول النهار إلى السفر للتجارة فكثر ماله ببركة مراعاة السنة  لأن دعاءه - صلى الله عليه وسلم - مقبول لا محالة."

(كتاب الجهاد، باب آداب السفر، ج: 6، ص: 2517، ط:3908، ط: دار الفكر)

لمعات التنقیح میں ہے:

"وقوله: (في بكورها) بكر إليه وعليه وفيه بكرا وبكورا وابتكر وأبكر وباكره: أتاه بكرة، والبكرة بالضم: الغدوة، كذا في (القاموس)."

(كتاب الجهاد، باب آداب السفر، الفصل الثاني، ج:6، ص: 634، ط: دار النوادر)

شرح المشکاۃ للطیبی میں ہے:

"(الغدوة) بالضم ما بين صلاة الغداة وطلوع الشمس."

(كتاب الصلاة، باب القصد في العمل، ج: 4، ص: 1214، ط: مكتبة بزاز)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144408100885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں