بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹائی پہننے کا حکم


سوال

کیا ٹائی پہننا شریعت کے مطابق جائز ہے؟  اور کیا ٹائی پہننا عیسائیوں کے نزدیک عقیدت میں شامل ہے؟

جواب

واضح رہے کہ یہ بات  تحقیق سے ثابت نہیں ہوسکی کہ عیسائی، عقیدۂ  صلیب کی بنا  پر ٹائی کا استعمال کرتے ہیں، البتہ ’’فتاویٰ محمودیہ‘‘  میں لکھا ہے کہ پہلے یہ عیسائیوں کا شعار تھا، اب غیر عیسائی بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں، عبارت ملاحظہ ہو:

’’ ٹائی ایک وقت میں نصاریٰ کا شعار تھا، اس وقت اس کا حکم بھی سخت تھا، اب غیر نصاریٰ بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں، اب اس کے حکم میں تخفیف ہے، اس کو شرک یا حرام نہیں کہا جاسکتا، کراہت سے خالی اب بھی نہیں ہے‘‘۔ (فتاویٰ محمودیہ ، ج،19،ص،289،ط،فاروقیہ)

 تاہم اتنی بات واضح ہے کہ ٹائی کا استعمال، صلحاء، شرفاء کے لبا س کا حصہ نہیں، بلکہ فساق و فجاریا ان سے مرعوب لوگوں کے لباس کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے اور جو لبا س فساق و فجار کا شعار ہویا اس میں فساق و فجار سے مشابہت نظر آتی ہو اس کو استعمال کرنا صحیح نہیں ہے ۔ احادیثِ مبارکہ میں کفار و فسا ق کی مشابہت سے صراحتاً منع کیا گیا ہے؛ لہٰذا ٹائی کا استعمال کراہت سے خالی نہیں، اس کو پہننے سے اجتناب ضروری ہے۔ حدیث شریف میں ہے : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا ۔

مرقاہ المفاتیح میں ہے:

’’أي من تشبّه نفسه بالکفار مثلًا في للباس وغیره أو بالفساق أو الفجار". (ج،4،ص،431،ط،مکتبہ اسلامیہ) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144108200218

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں