بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

طب اور علاج معالجہ سے متعلق احادیث کا درجہ


سوال

جیسا کہ درج ذیل احادیث پاک میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہے:

حدیث نمبر ١ : کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ 

حدیث نمبر ۲ : سناء مکی میں موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ 

حدیث نمبر ٣ : نبی کریم سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو تلبینہ کی ہانڈی اس وقت تک چولھے سے نہ اترتی جب تک وہ بندہ صحت یاب نہ ہوجاتا یا اس کی موت  واقع ہو جاتی۔

اس طرح کی اور بھی احادیث بندہ نے پڑھی اور سنی ہیں ۔ 

ایک طرف ملک پاکستان کے مشہور موجد طب (حکیم صابر ملتانی) نے جن کی تحقیق بنام قانون مفرد اعضاء آج پوری دنیا میں ایک فطری، یقینی اور بے خطاء علاج ثابت ہوا ہے، جس میں اصولی طور پر فطرت کے موافق غور اور فکر کرکے ہزاروں سال کی قدیم طب کی خامیاں، دشواریاں اور شکوک وشبہات وغیرہ ( مثلاً علمِ تشخیص اور ادویہ کے امزجہ وغیرہ) کو حل کرکے اور ساتھ انتہائی آسان کرکے ان بڑے اور خطرناک امراض کا علاج بھی رہتی دنیا کے سامنےتحفہ پیش کیا ہے، جن امراض سے پوری دنیا کی طبی سائنس آج تک قابل اطمینان علاج سے محروم رہی اور یقیناً یہ کہنا غلو نہ ہوگا کہ نتائج کی دنیا میں آج اس طبی قانون مفرد اعضاکے سامنے پوری دنیا کی تمام طبّوں کو (چاہے وہ فرنگی طب ہو یا کوئی اور پیتھی ہو) سرِ تسلیم خم کرنا پڑ رہا ہے، اور ایک طرف درج بالا ہر حدیث میں ایک ہی دوا کو ہر مرض کے لیے شافی اور کافی بیان کیا ہے، لیکن قانون مفرد اعضاء کے مطابق درج بالا تمام ادویہ کے امزجہ مخصوص ہیں اور خاص امراض کے لیے ہی مستعمل ہیں اور تمام اطباء  کا تجربہ بھی شاہد ہے کہ اکثر مرتبہ ہر مرض میں درج بالا ادویہ کے استعمال سے مضر اثرات بھی ثابت ہوئے ہیں، ان تمام تفصیلات کو تحریر کرنے کے بعد حاصل یہ ہے کہ 

اولاً: قانون مفرد اعضاء ثانیاً دنیا کی قدیم طب نے ادویہ کو امزجہ کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے( مخالف) استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے،وہ بھی فقط عرصہ دراز کی علمی تحقیق اور تجربہ کی بنیاد پر  تو ایسی حالت میں انسانی صحت کو بحال رکھنے اور امراض کودور کرنے کے لیے کس بات پر عمل پیرا ہونا بہتر ہوگا؟ طب نبوی کی بتائی ہوئی تمام امراض کے لیے ایک ہی ادویہ پر یا قانون مفرداعضاء پر؟ جب کہ  ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چند ادویہ استعمال کرکے امزجہ کے مطابق استعمال کرنے کی تعلیم ارشادفرمائی ہے  اور اگر قانون مفرد اعضاء یا طب قدیم کے مطابق عمل پیرا ہوں تو درج بالا احادیث (ادویہ) کو کس اعتبار سے سمجھا،مانا اور عمل کیا جائے؟ 

واضح ہو کہ طب قدیم کے حوالہ نہ دیتے ہوئے مذکورہ جدید طب( قانون مفرد اعضاء) کا خلاصتاً ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ قانون مفرداعضاء کی بنیاد ہی امزجہ کے ساتھ مطبق ہے ٬ امزجہ کے خلاف ادویہ استعمال کرنے کی ہرگز گنجائش نہیں، اور اس طرح کی طب کو جاہلانہ اور عطایانہ فن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بھی واضح ہو کہ درج بالا سطر میں جاہلانہ اور عطایانہ فن میں طب نبوی شامل نہیں،  بلکہ موجد طب خود طب نبوی کے متبع تھے، نہ کہ منکر۔ بندہ کو اب تک موجد طب کی کتب سے یہ بات نہ مل سکی کہ کس طرح طب نبوی کی دواؤں کو استعمال کرتے تھے؟ ہاں یہ ضرور عرض کردوں کہ موجد طب کے اکثر شاگردوں سے یہ بات سنی ہے کہ طب نبوی، فطرت کے خلاف نہیں، لیکن ان شاگردوں سے بھی اب تک یہ اثبات نہ ہوسکا کہ ہر مرض میں درج بالا ادویہ استعمال کرسکتےہیں. 

نوٹ: سوال پوچھنے کا مقصد فقط شریعت کی راہ نمائی مطلوب ہے نہ کہ حکماء کی تحقیق پیش کرنا ہے، البتہ (بشکل حدیث! بدن انسانی میں تحقیق کرنے والے) حکماء کی آراء سے کسی طرح ثبوت نہ ملنے کی باعث انحراف نہیں ہو پا رہا ہے، بلکہ رسولﷺ کا ایک صحابی کو (آپ ﷺ کے زمانہ کے مشہور فلاسفر اور حکیم) حارث ابن کلدہ کے پاس بھیجنے کا جواز ہی نظر آرہا ہے۔

جواب

١- سب سے پہلے اصولی طور پر یہ نکتہ ذہن نشین ہونا چاہیے کہ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ کا اصل موضوع، انسانوں کو آسمانی تعلیمات سے آگاہ کرنا، اور روحانی امراض کی تشریح وتفصیل اور ان کا علاج تجویز کرنا ہے، جسمانی امراض کی تعیین و تشخیص اور  ان کے علاج معالجہ کی وضاحت، قرآن کریم واحادیثِ نبویہ کے بنیادی واساسی مقاصد میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرک،کفر، تکبر، حسد، ریا، اسراف، تبذیر وغیرہ اخلاق وکردار کی خامیاں ، اور ان سے بچنے کی ترغیبی وترہیبی تعلیمات، قرآن وحدیث میں جا بجا ملتی ہیں، لیکن  ان کی بنسبت جسمانی امراض اور ان کے علاج کا تذکرہ بہت کم ہی ملتا ہے۔ نیز اس قسم کی تفصیلات کے نہ ہونے کو کسی طرح بھی دینِ اسلام کی خامی یا نقص شمار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کا قابلِ تعریف پہلو ہے کہ حیاتِ  انسانی کے بنیادی مقاصد کو بلا کم وکاست بیان کیا، اور جن امور کا ان مقاصد سے تعلق نہیں، لیکن انسانی ضروریات میں سے ہیں، ان کی طرف بھی بقدرِ ضرورت توجہ کی۔

 ۲- حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے "حجة اللہ البالغة" میں علومِ نبویہ کی جو تقسیم کی ہے، اس کی ابتدا میں روایاتِ حدیث کی دو  قسمیں بیان کی ہیں: 

۱- جن روایات کا تعلق تبلیغِ رسالت سے ہے۔

۲- جن کا تعلق تبلیغِ رسالت سے نہیں۔

اس کے بعد اول الذکر نوع کی چار قسمیں تجویز کی ہیں: 

(۱) معاد سے متعلق روایات۔

(۲) احکامِ شرعیہ اور عبادات و ارتفاقات کے ضوابط۔

(۳) عام حکم ومصالح جیسے: اخلاقِ صالحہ وسیئہ وغیرہ۔ 

(۴) اعمالِ صالحہ کے فضائل ومناقب وغیرہ.

پہلی قسم کا مدار محض وحی پر ہے، جب کہ دوسری، تیسری اور چوتھی قسموں میں وحی کے ساتھ ساتھ بعض امور کا مدار اجتہادپر بھی ہے۔

دوسری قسم کے ضمن میں شاہ صاحب رحمہ اللہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ اجتہادِ نبوی، وحی کے مرتبے میں ہے، اس لیے کہ وہ خطا پربرقرار نہیں رہتا  (بلکہ خطا کی صورت میں تنبیہ کے ذریعہ درستی کیا جانب  متوجہ کر دیا جاتا تھا)، مزید یہ کہ عام خیال کے مطابق یہ اجتہاد ہمیشہ نصوص سے مستنبط نہیں ہوتا، بلکہ کبھی مقاصدِ شرع، قانونِ تشریع وتیسیر واحکام کے علم کی بنیاد پر بھی ہوتاہے، لیکن اس کے بعد جب وحی کے ذریعے اس کی تقریر ہو جاتی ہے تو وہ بھی وحی کی مانند ہوجاتا ہے۔

بعد ازاں دوسری نوع کی روایات کی بھی پانچ اقسام بیان کی ہیں: 

(۱) علاج ومعالجہ اور طب سے متعلق روایات، اسی ضمن میں وہ روایات بھی آگئیں جن میں تابیر النخلۃ کا ذکر ہے، یا گھوڑوں کےمختلف اوصاف کا بیان ہے۔

(۲) امورِ عادیہ سے متعلق احادیث۔

(۳) عام باتوں پر مشتمل روایات جیسے:  حدیثِ ام زرع وحدیثِ خرافہ وغیرہ۔

(۴) وقتی احکام سے متعلق روایات جیسے: من قتل قتیلاً فله سلبه. وغیرہ 

(۵) کوئی خاص حکم یا فیصلہ۔

(حجة الله البالغة، المبحث السابع :مبحث استنباط الشرائع من حديث النبي صلى الله عليه وسلم، باب أقسام علوم النبي صلى الله عليه وسلم، ١/ ٢٢٣- ٢٢٤، دار الجيل، بيروت، ط:الأولى، سنة الطباعة :١٤٢٦ھ)

مذکورہ تفصیل سے یہ نکتہ  واضح ہوگیا کہ  اصولی طور پر طب سے متعلق روایات کا تعلق تبلیغِ رسالت اور تشریع سے نہیں، بلکہ دوسری نوع سےہے۔ 

۳-  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جسمانی امراض کے علاج کے سلسلے میں منقول ہدایات تین قسم کی ہیں: 

(۱) وہ احادیث جن میں طبعی دوائیں تجویز کی گئی ہیں۔

(۲) وہ احادیث جن میں روحانی وظائف تجویز کیے گئے ہیں۔ 

(۳) وہ احادیث جن میں طبعی اور روحانی دونوں قسم کے علاج تجویز کیے گئے ہیں۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے  الطب النبوي میں ان تینوں سے متعلق احادیث مستقل ابواب میں ذکر کی ہیں۔

الطب النبوي، ابن قیم رحمه اللہ، ص:8، 9، 11، دار الهلال)

۴-اوپر گزر چکا کہ   حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے علاج وطب کی بابت نبی کریم صلی اللہ وسلم سے منقول ہدایات کو نبوی تعلیمات کی اس قسم میں  شمار کیا ہے، جن کی تبلیغ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذمہ واجب کے درجے ومرتبے میں نہیں تھی اور اس نکتے کی تائید کے طور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے : "میں تو ایک بشر ہی ہوں، جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کوئی ہدایت دوں تو اس کو تھام لو، اور جب تمہیں کسی چیز کا حکم اپنی رائے کے  حوالے  سے دوں تو میں ایک بشر ہوں (اور انسانی رائے میں قطعیت نہ ہونا مسلم ہے)"۔ 

(صحیح مسلم، كتاب الفضائل، باب وجوب امتثال ماقاله شرعا، دون ما ذكره صلى الله عليه وسلم من معايش الدنيا على سبيل الرأي، رقمالحديث:2362، ج:4/ 1835، دار إحياء التراث العربي بيروت)

اس حدیثِ نبوی اور اس کے ضمن میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تشریح کی روشنی میں یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ طب وعلاج سے متعلق نبوی ہدایات کی نوعیت ایک مشورے کی ہے، جن کا تعلق سرزمینِ عرب کے موسم و ماحول اور اس خطے کے باسیوں کےجسمانی حالات سے ہے، ان ہدایات میں وجوب کا پہلو نہیں ہے ، اس لیے ان طبی ہدایات پر عمل کرنا واجب نہیں ہے، نیز اگر یہ طبی ہدایات کسی کی جسمانی ساخت اور ماحول کے اعتبار سے ناموافق ہوں تو عدمِ موافقت سے نبوت ورسالت کی عصمت پر کوئی حرف نہیں آتا۔

(حجة الله البالغة، المبحث السابع: مبحث استنباط الشرائع من حديث النبي صلى الله عليه وسلم، باب بيان أقسام علوم النبيصلى الله عليه وسلم 1/ 224، دار الجیل بيروت)

مذکورہ تفصیل سے واضح ہوگیا کہ جن احادیث نبویہ میں مختلف طریقہائے علاج اور  اشیاء کے خواص  وغیرہ ذکر کیے گئے ہیں، ان میں امزجہ وطبائع اور موسم وغیرہ کی رعایت بھی ضروری ہے، ان امور کی رعایت نہ رکھنے کی بنا پر رد عمل میں نقصان ہونا فطری  نتیجہ ہے، جسے  احادیث میں درج طبی علاج کی جانب منسوب کرنا درست نہ ہوگا ، بلکہ  احادیث نبویہ کی تعلیمات کی کم فہمی اور اپنی نادانی کا نتیجہ قرار دیا جائے گا۔ 

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144309100105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں