بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

تھریڈنگ کے کام کرنے والی عورت کا ہدیہ قبول کرنا یا اس رقم سے بچوں کی فیس ادا کرنا


سوال

 اگر کوئی خاتون امریکا میں تھریڈنگ کا کام کرتی ہو،  مطلب کہ  بھنوئیں (eyebrows)بنانے کا کام،  اگر وہ پیسے دے تو ان پیسوں کو استعمال کرنا جائز ہے ؟پیسے تحفہ کے طور پہ دیے ہیں اور وہ اگر کسی بچے کی تعلیمی اخراجات اٹھائے  تو کیا یہ درست ہوگا کہ ان کے پیسے استعمال کرلیے جائیں؟

جواب

واضح رہے کہ خواتین کے لیے اپنے چہرے کے غیر معتاد بال مثلاً داڑھی کے جگہ، مونچھ،  پیشانی وغیرہ کے بال یا کلائیوں اور پنڈلیوں کے بال یا دیگر جسم کے بال  صاف کرنا جائز ہے،  البتہ ان بالوں کو نوچ کرنکالنا مناسب نہیں،  کیوں کہ اس میں بلاوجہ اپنے جسم کو اذیت دیناہے،  کسی پاؤڈر وغیرہ کے ذریعہ صاف کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

باقی عورت کے لیے حسن کی خاطر بھنویں بنانا (دھاگا یا کسی اور چیز سے)یا اَبرو کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، اس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،  اسی طرح  دونوں ابرؤں کے درمیان کے بال زیب وزینت کے حصول کے لیے کتروانا جائز نہیں،  البتہ اگر  اَبرو بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کرکے  عام  حالت کے مطابق   (ازالۂ عیب کے لیے )معتدل کرنے کی گنجائش ہے۔

لہذا  صورتِ  مسئولہ میں تھریڈنگ کا عمل اگر چہ مناسب نہیں ہے کہ اس سے دھاگے سے بال نوچے جاتے ہیں ، لیکن یہ مطلقًا ناجائز نہیں ہے،  بلکہ تھریڈنگ کی ایک قسم ”آئی برو تھریڈنگ“ جس میں ے حسن کی خاطر بھنویں یا اَبرو کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانے کا عمل ہو  یہ  ناجائز ہے۔

اس لیے اگر مذکورہ عورت جائز و ناجائز  ہر قسم کی تھریڈنگ کرتی ہو اور اس کی جائز کاموں کی آمدنی زیادہ ہو تو اس کے پیسے استعمال کرنا جائز ہوگا۔

اور اگر اس کی غالب آمدنی ناجائز کام کی ہو، یا اس کا کام ہی صرف آئی برو تھریڈنگ ہو تو پھر اس کے پیسے استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ جن بچوں کے پاس اپنا مال نہ ہو اور ان کے والدین بھی مستحق زکوٰۃ ہو ں تو  ایسے بچوں کی تعلیمی اخراجات اس رقم سے ادا  کیے جاسکتے ہیں۔ 

حاشية رد المحتار على الدر المختار (6/ 373):

"( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب".

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201356

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں