بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹھوکر لگتے وقت درود پاک پڑھنا کیوں ممنوع ہے؟


سوال

ٹھوکر لگتے وقت درود پاک پڑھنا کیوں مکرو ہ قرار دیا گیا ؟

جواب

سات جگہوں پر درود شریف پڑھنے کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، ان کے علاوہ ہر جگہ، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت پڑھ سکتے ہیں،اور بہت ہی خیر وبرکت کا باعث ہے۔وہ سات جگہیں درج ذیل ہیں: 

(۱) اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرتے وقت۔ (۲) پیشاب وپاخانہ کرتے وقت۔ (۳) کسی چیز کے بیچنے کے ارادے سے کسی کو دکھانے کے وقت (تاکہ اس سے سامنے والے کو چیز کی عمدگی معلوم ہو)۔ (۴)  ٹھوکر لگتے وقت۔ (۵)  تعجب کے وقت۔(۶)  ذبح کرتے وقت۔ (۷)  چھینک آنے پر۔
''الدر المختار وحاشية ابن عابدين'' (رد المحتار) (1/ 518):
'' تكره الصلاة عليه صلى الله عليه وسلم في سبعة مواضع: الجماع، وحاجة الإنسان، وشهرة المبيع والعثرة، والتعجب، والذبح، والعطاس على خلاف في الثلاثة الأخيرة شرح الدلائل، ونص على الثلاثة عندنا في الشرعة فقال: ولايذكره عند العطاس، ولا عند ذبح الذبيحة، ولا عند التعجب''.

درود پاک ایک عبادت ہے اور عبادت ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے اہتمام کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے ادا کیاجائے، ان مقامات میں چوں کہ آدمی ذاتی حاجات  وپریشانیوں میں  مبتلارہتاہے، کہیں بے پردگی اور ناپاکی ہے تو کہیں ذاتی غرض وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ان مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں ادب اور مقام کا لحاظ نہیں ہوسکتا، جب کہ درود شریف اعلی و افضل ترین عبادات میں سے ہے، جس کے لیے انتہائی ادب اور پاس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اس  لیے ان مواقع میں درود شریف پڑھنا پسندیدہ نہیں۔ (واضح رہے کہ  چھینکنے پر درود و سلام پڑھنے یا ذبح کے وقت درود پڑھنے کی ممانعت کی مستقل وجہ ہے)۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں