بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹھیک ہے صبح میں آپ کو آزاد کر دیتا ہوں


سوال

میری اپنے شوہر سے مذاق میں بات چل رہی تھی کہ میں نے ان  سے کہا کہ: میرے پاس آپ سے شادی کے وقت کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا، اس لئے مجبورا آپ سے شادی کرنا پڑی ، جس کے جواب میں شوہر نے کہا کہ: "ٹھیک ہے صبح میں آپ کو آزاد کر دیتا ہوں"۔ میرے شوہر نے یہ بات طنزا کہی تھی،  اس بات کے بعد میں نے انہیں روکا کہ یہ آپ نے فضول بات کی ہے،  تو وہ سمجھے کہ ابھی بھی ان کو  چھیڑ رہی ہوں،  تو انہوں نے دوبارہ کہا کہ : "میں کہہ تو رہا ہوں کہ آپ کو آزاد کر دیتا ہوں" پھر میں نے تھوڑا غصے میں بولا کہ : آپ کو پتہ بھی ہے کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں؟  تب ان کو احساس ہوا، انہوں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی بات کے جواب میں طنزیہ کہا ہے میری ایسی کوئی نیت نہیں ہے برائے مہربانی اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ,کیا اس گفتگو سے ہماری شادی پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے دوران گفتگو جو  دو جملے ( "ٹھیک ہے صبح میں آپ کو آزاد کر دیتا ہوں"،  اور "میں کہہ تو رہا ہوں کہ آپ کو آزاد کر دیتا ہوں ") کہے ہیں، ان دونوں  کا تعلق چونکہ  مستقبل سے ہے، لہذا ان الفاظ کے کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، تاہم آئندہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامديةمیں ہے:

"(الجواب) : صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(كتاب الطلاق، ١ / ٣٨، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144507102310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں