بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

مغرب کی تیسری رکعت میں قراءت جہرًا کرنے کا حکم


سوال

مغرب کی تیسری رکعت میں اگر جہراً  سورتِ  فاتحہ کی قراءت کی تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر امام نے تیسری رکعت میں تین تسبیحات کی مقدار  یا اس سے زیادہ بلند آواز سے قراءت کرلی تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔ اور اگر اس سے کم مقدار کی ہو تو سجدہ سہو  کرنا لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وَالْجَهْرِ فِيمَا يُخَافِتُ فِيهِ) لِلْإِمَامِ (وَعَكْسُهُ) لِكُلِّ مُصَلٍّ فِي الْأَصَحِّ، وَالْأَصَحُّ تَقْدِيرُهُ (بِقَدْرِ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ فِي الْفَصْلَيْنِ". (رد المحتار علی الدر المختار، ج:2،ص:81،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامیمیں ہے:

"(قوله: والجهر للإمام) اللام بمعنى على، مثل :{وإن أسأتم فلها} [الإسراء: 7]، واحترز به عن المنفرد فإنه يخير بين الجهر والإسرار، وقوله: والإسرار للكل: أي الإمام والمنفرد، وقوله: فيما يجهر ويسر، لف ونشر، يعني أن الجهر يجب على الإمام فيما يجهر فيه، وهو صلاة الصبح والأوليان من المغرب والعشاء وصلاة العيدين والجمعة والتراويح والوتر في رمضان، والإسرار يجب على الإمام والمنفرد فيما يسر فيه وهو صلاة الظهر والعصر والثالثة من المغرب والأخريان من العشاء وصلاة الكسوف والاستسقاء، كما في البحر، ولكن وجوب الإسرار على الإمام بالاتفاق". (رد المحتار علی الدر المختار، ج:1،ص:469،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وَمِنْهَا: الْجَهْرُ وَالْإِخْفَاءُ) حَتَّى لَوْ جَهَرَ فِيمَا يُخَافَتُ أَوْ خَافَتَ فِيمَا يُجْهَرُ وَجَبَ عَلَيْهِ سُجُودُ السَّهْوِ، وَاخْتَلَفُوا فِي مِقْدَارِ مَا يَجِبُ بِهِ السَّهْوُ مِنْهُمَا، قِيلَ: يُعْتَبَرُ فِي الْفَصْلَيْنِ بِقَدْرِ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْفَاتِحَةِ وَغَيْرِهَا، وَالْمُنْفَرِدُ لَايَجِبُ عَلَيْهِ السَّهْوُ بِالْجَهْرِ وَالْإِخْفَاءِ؛ لِأَنَّهُمَا مِنْ خَصَائِصِ الْجَمَاعَةِ، هَكَذَا فِي التَّبْيِينِ". (الفتاوی الهندیة،ج:1، ص:128،ط:مکتبة حقانیة) ١/ ١٢٨) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں