بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹینکی میں پیدا ہونے والے کیڑوں کا حکم


سوال

ہماری  زمین کی  ٹینکی میں لال کیڑے ہوگئے ہیں،اور ہمیں   ابھی  پتہ چلا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم نے اس پانی سے  وضو کرکے جو نمازیں ادا کی تھیں وہ ہوگئی ہیں یا نہیں؟ اوراس پانی سے جو کپڑے وغیرہ دھوئے گئے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ٹینکی میں پیدا ہونے والے لال کیڑوں کی وجہ سے پانی نجس نہیں ہوگا، لہذا اس سے وضو کرکے پڑھی گئی نمازیں ادا ہوچکی ہیں، اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ، اور اس سے دھوئے گئے کپڑے پاک ہیں۔

 بدائع الصنائع میں ہے:

"(أما) الذي ليس له دم سائل: فالذباب والعقرب والزنبور والسرطان ونحوها، وأنه ليس بنجس عندنا، وعند الشافعي نجس، إلا الذباب والزنبور فله فيهما قولان، (واحتج) بقوله تعالى {حرمت عليكم الميتة} والحرمة لا للاحترام - دليل النجاسة.
(ولنا) ما روي عن سلمان الفارسي - رضي الله عنه - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «موت كل حيوان ليس له نفس سائلة في الماء لايفسده»".

(كتاب الطهارة، فصل في الطهارة الحقيقية، ج:1، ص:62، ط:دار الکتب العلمية)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"[الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لا يؤكل]
(الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لا يؤكل) الحيوان في الأصل نوعان: نوع يعيش في البحر ونوع يعيش في البر، أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان يحرم أكله إلا السمك خاصةً فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه، وأما الذي يعيش في البر فأنواع ثلاثة: ما ليس له دم أصلا وما ليس له دم سائل وما له دم سائل، فما لا دم له مثل الجراد والزنبور والذباب والعنكبوت والخنفساء والعقرب والببغاء ونحوها لا يحل أكله إلا الجراد خاصة، وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهو أم الأرض من الفأر والجراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي - رحمه الله تعالى -".

(كتاب الذبائح، الباب الثاني في بيان ‌ما ‌يؤكل ‌من ‌الحيوان وما لا يؤكل، ج:5، 289، ط:دار الفکر)

بہشتی زیور میں  ہے:

’’کیڑے مکوڑے اور خشکی کے جملہ وہ جانور جن میں دم سائل نہ ہو،پاک ہیں، جیسے حشرات الارض بچھو ،تیتے،چھوٹی چھپکلی جس میں دم سائل نہ ہو،چھوٹا سانپ جس میں دم سائل نہ ہو،خارجاً ان کا استعمال ہر طرح درست ہے اور داخلاً سب حرام ہیں،سوائے ٹڈی کے۔‘‘ 

(بہشتی زیور ،نواں حصہ، ص:104، ط:میر محمد کتب خانہ)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144503100668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں