بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق


سوال

میری شادی کو چھ سال ہوئے ہیں جب سے میری شادی ہوئی میرے شوہر کا رویہ میرے اور میرے ولدین سے اچھا نہیں تھا. میری چار سال کی بیٹی بھی ہے میراشوہر نشے کا عادی بھی تھا. مجھے اور میری بیٹی کا خرچہ بھی نہیں دیا کرتا تھا میرے باپ دیا کرتے تھے نو مہینےپہلے اس نےمجھے مارا پیٹا اور جان سے مارنے کی کوشش کی. اور میں جان بچانے ک لٰیے چھت پر گئی جہاں میرے ایک جیٹھ اور دو دیورانیاں موجود تھی وہاں آکر میرے شوہر نے مجھے میرا اور میرے والد کا نام لے کر کہا میں فلاں فلاں کا بیٹا اپنے ہوش و ہواس میں طلاق دیتا ہوں تین سے زیادہ بار کہا اور یہ الفاظ چار لوگوں کے سامنے کہے میرے شوہر دو دن سے مجھے کہہ رہے تھے میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور ذلیل اور رسوا کروں گا میری جان بچا کر میرے شوہر کے والد مجھے میرے باپ کے گھر چھوڑ گئے میں بیٹی بھی اپنے ساتھ لے آئی اب میرے لئے شرعی حکم کیا ہو گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرواقعۃ ً سائلہ کواس کے شوہرنےتین مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی  کہ ''اپنے ہوش وہواس  میں  طلاق دیتاہوں ، ''  تو اس سے سائلہ پرتین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں ، نکاح ختم ہوگیاتھااوررجوع جائزنہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية·"

(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس ۱/ ۴۷۳ ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100358

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں