بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد دوبارہ کس طرح ساتھ رہ سکتے ہیں؟


سوال

 کہ زید نے شراب کے نشے میں اپنی بیوی سے جھگڑا کیا اور تین مرتبہ یہ الفاظ کہے طلاق طلاق طلاق موقع پر موجود گھر والے بھی اس کے گواہ ہیں تو اس صورت میں طلاق ہوئی کہ نہیں اور ہوئی تو کونسی طلاق ہوئی زید اور ہندہ دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو کیا صورت ہوگی قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ دیجیۓ۔

جواب

صورت مسئولہ میں مسمی زید نے جب اپنی بیوی کوتین طلاقیں ان الفاظ کےساتھ  دیں  کہ "طلاق  ، طلاق ، طلاق " تواس  کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں نکاح ختم ہوگیاہے ، بیوی حرمت مغلظہ کےساتھ شوہر پرحرام ہوگئی ہے، اب رجوع جائز نہیں ہے ۔البته اگر مطلقہ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرلےاور وہاں حقوق زوجیت ادا ہونےکےبعددوسرےشوہر کا انتقال ہوجائےیادوسرا شوہر خود  طلاق دے دےیا مطلقہ خود طلاق لے لےتو  عدت گزارکردوبارہ پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔

            فتاوی عالمگیری میں ہے :

"و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية·"

(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، ۱/ ۴۷۳ ط:رشیدیه) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402101477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں