بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تین بطن مناسخہ


سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا، جو کل نو بھائی بہن تھے، ان میں سے دو بھائی مرحومہ سے پہلے انتقال کرچکےتھے، مرحومہ کے انتقال کے وقت شوہر، تین بھائی اور تین بہنیں حیات تھیں، مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں تھی، مرحومہ کے والدین کا بھی ان سے قبل انتقال ہوچکاتھا، مرحومہ کے انتقال کے بعد ایک بھائی کا انتقال ہوا، ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھیں، مرحوم کی بیوہ حیات ہے، پھر ایک بہن کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں دو بیٹے، دو بیٹیاں ہیں، شوہر کا مرحومہ سے قبل انتقال ہوا تھا۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ مرحومہ کا ترکہ مذکورہ بالا ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کا ترکہ شریعت کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا  کہ سب سے پہلے  مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو توباقی ترکہ کے ایک تہائی  حصہ  میں سے اسے نافذ  کرنے کے بعد،  جو ترکہ  باقی رہ جائے، اس  کےکل1512 حصے  کر کے مرحومہ کے شوہرکو 756 حصے،  ہرایک زندہ بھائی کو 204 حصے، ہرایک زندہ بہن کو102 حصے، مرحومہ کے بعد جس بھائی کا انتقال ہوا ہے اس کی بیوہ کو 42 حصے، اور جس بہن کا مرحومہ کے بعد انتقال ہوا ہے اس کے ہرایک بیٹے کو 34 حصے اور ہرایک بیٹی کو 17حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:1512/252/18/2 مرحومہ جس کا ترکہ تقسیم کرنا ہے۔

شوہربھائیبھائیبھائیبہنبہنبہن
11
9222111
126فوت2828141414
756۔۔۔168168فوت8484

میت:4/ 28وفق 14۔۔ بھائی ۔۔ مف2 وفق 1

بیوہبھائیبھائیبہنبہنبہن
13
766333
423636فوت1818

میت:6۔  بہن ۔ مف:17

بیٹابیٹابیٹیبیٹی
2211
34341717

یعنی 100 روپے میں سے  مرحومہ کے شوہرکو50 روپے، مرحومہ کے ہرایک زندہ بھائی کو13.492 روپے، مرحومہ کی ہرایک زندہ بہن کو6.746روپے، مرحومہ کے بعد جس بھائی کا انتقال ہواہے  اس کی بیوہ کو2.777 روپے، اور جس بہن کا مرحومہ کے بعد انتقال ہوا ہے اس کے ہرایک بیٹے کو2.248 روپے اور ہرایک بیٹی کو1.124 روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100388

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں