بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

تیل سپلائی کرنے کا انٹری کارڈ فروخت کرنا


سوال

ہمارے علاقے والے ایران سے پاکستان  تیل کی سپلائی کرتے ہیں، ایران سے تیل  سپلائی کرنے کے لیے وہاں  کے پاکستانی فوج اور وہاں کے چند معتبر شخصیات کی کمیٹی کی طرف سے جن لوگوں نے اپنے نام درج کئے تھے، ان کو ایک نمبر، انٹری کارڈ اور پاس کارڈ  دیا گیا ہے، اس انٹری کارڈ کے ذریعے یہ لوگ مہینے میں ایک یا دو مرتبہ ایران کے علاقے روتوک سے پاکستان کے شہر نوکنڈی، یک مچھ اور دالبندین تیل سپلائی کرتے ہیں، ان انٹری والوں میں سے بعض حضرات نے اپنی انٹری اور  تیل سپلائی کرنے کی باری دوسرے حضرات کو بیچ دی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اپنا نمبر ، انٹری کارڈ اور اپنی باری  دوسرے حضرات کو بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جن حضرات نے اپنی انٹری  بیچی  ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس انٹری تو ہے لیکن گاڑ ی نہ ہونے کی وجہ سے  ہم نے مجبوراً بیچ دی ہے، اور بعض حضرات  یہ کہتے ہیں کہ ہمیں پیسوں کی اشد ضرورت  تھی، اس وجہ سے ہم نے بیچ دی ہے۔

جواب

 صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ انٹری کارڈ  یا پاس کارڈ،   تیل سپلائی کرنے کی باری کا اجازت نامہ  ہے، یہ    مال نہیں ہے، اور نہ ہی مال کی رسید ہے،اس کو فروخت کرنا اور اس پر نفع کمانا جائز نہیں ہے۔

البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر  مذکورہ تیل لانے کے بعد فروخت کرنے پر پابندی نہ ہو تو    جس کے پاس انٹری کارڈ ہے وہ خود باہر سے تیل منگوائے ، اس کے لیے پیسے نہ ہوں تو  اسی انٹری کارڈ خریدنے کے خواہش مند شخص سے   ادھار  رقم  بھی لے سکتا ہے، جب تیل آجائے تو اپنے قبضہ میں لے کر   اس تیل کے فروخت کرنے کا مارکیٹ قیمت کے اعتبار سے  نفع رکھ کر مذکورہ  شخص کو  فروخت کردے ، اس صورت میں مذکورہ شخص کو تیل مل جائے گا اور  انٹری پاس والے کو  نفع بھی مل جائے گا۔

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) میں ہے:

"قلت: وعبارة الصيرفية هكذا سئل عن بيع الخط قال: لا يجوز؛ لأنه لا يخلو إما إن باع ما فيه أو عين الخط لا وجه للأول؛ لأنه بيع ما ليس عنده ولا وجه للثاني؛ لأن هذا القدر من الكاغد ليس متقوما."

 (4 / 517، كتاب البيوع، فروع في البيع، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144411102821

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں