بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

استنجاء کے بعد قطروں کے آنے کا حکم


سوال

مجھےپیشاب کے قطرات کا مسئلہ ہے۔ استنجاء سے فراغت کے بعد مجھے اطمینان نہیں ہوتا۔  خواہ میں کتنا ہی استبراء کرلو ں اطمینان نہیں ہوتا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پیشاب کی نالی تر ہوجاتی ہے۔ اگر میں نماز سے ایک دوگھنٹہ پہلے بھی استنجاء کروں تب بھی نماز کے دوران پیشاب کی نالی تر محسوس ہوتی ہے۔ پھر نماز سے فراغت کے بعد چیک کرتا ہوں تو پیشاب کی نالی تر نظر آتی ہے۔ میں نالی کو صاف کرتا ہوں اور وضوء کر کے نماز  دوہراتا ہوں تو پھر یہی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوبارہ پیشاب کی نالی تر محسوس ہوتی ہے پھر دوبارہ پڑھتا ہوں ۔بسا اوقات تین مرتبہ تک نمازدوہراتا ہوں۔ برائے کرم مجھے بتائیں کہ کیا میں شریعت کی نظر میں معذور ہوں؟ کیو نکہ کبھی تو نماز کے بعد میں چیک کرتا ہوں تو پیشاب کی نالی خشک بھی ہوتی ہے اور کبھی چیک کرتا ہوں تو تر نظر آتی ہے۔ پھر میں نماز دوہراتا ہوں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  وضو کے بعد  نماز میں  پیشاب کی نالی کے بالکل آخری سرے پر  پیشاب کا قطرہ اگر یقینی طور پر  ظاہر ہوجائے تو اس سے وضو اور نماز ٹوٹ جائے گی، اگر بالکل آخری سرے پر پیشاب کے قطرے ظاہر نہ ہوں، بلکہ صرف نالی کی اندرونی جانب تر ہو یا محض اس کا وسوسہ آتا ہو  تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔

اگر یقینی طور پر پیشاب کے قطرے نہ نکلتے ہوں تو پھر  ایک مرتبہ اچھی طرح اطمینان کرنے کے بعد شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وضو کرکے نماز ادا کرلیں۔

الدرالمختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة. (قوله: مجرد الظهور) من إضافة الصفة إلى الموصوف: أي الظهور المجرد عن السيلان، فلو نزل البول إلى قصبة الذكر لاينقض لعدم ظهوره، بخلاف القلفة فإنه بنزوله إليها ينقض الوضوء، وعدم وجوب غسلها للحرج، لا لأنها في حكم الباطن كما قاله الكمال ط".

(کتاب الطہارۃ، باب الوضو، ج: 1، 135، ط: ایچ، ایم، سعید)

وفیہ ایضًا:

"(كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لاينقض، وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت؛ فإن رطبه انتقض، وإلا لا.  (قوله: إحليله) بكسر الهمزة مجرى البول من الذكر بحر (قوله: هذا) أي النقض بما ذكر، ومراده بيان المراد من الطرف الظاهر بأنه ما كان عالياً عن رأس الإحليل أو مساوياً له: أي ما كان خارجاً من رأسه زائداً عليه أو محاذياً لرأسه لتحقق خروج النجس بابتلاله؛ بخلاف ما إذا ابتل الطرف وكان متسفلاً عن رأس الإحليل أي غائباً فيه لم يحاذه ولم يعل فوقه، فإن ابتلاله غير ناقض إذا لم يوجد خروج فهو كابتلال الطرف الآخر.الذي في داخل القصبة (قوله: والفرج الداخل) أما لو احتشت في الفرج الخارج فابتل داخل الحشو انتقض، سواء نفذ البلل إلى خارج الحشو أو لا للتيقن بالخروج من الفرج الداخل وهو المعتبر في الانتقاض لأن الفرج الخارج بمنزلة القلفة، فكما ينتقض بما يخرج من قصبة الذكر إليها وإن لم يخرج منها كذلك بما يخرج من الفرج الداخل إلى الفرج الخارج وإن لم يخرج من الخارج اهـ شرح المنية (قوله: لاينقض) لعدم الخروج (قوله: ولو سقطت إلخ) أي لو خرجت القطنة من الإحليل رطبة انتقض لخروج النجاسة وإن قلت، وإن لم تكن رطبة أي ليس بها أثر للنجاسة أصلاً فلا نقض".

(کتاب الطہارۃ، باب الوضو، ج: 1، 148، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144407100491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں