بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں یا دو ہوئیں ہیں؟


سوال

شوہر کا بیان: میں اپنی بیوی کو پہلے ایک طلاق دے چکا تھا جس کے بعد رجوع کر لیا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں پھر بیوی سے شدید اختلافات اور لڑائیاں ہوئیں۔ آخری مرتبہ جب لڑائی ہوئی تو چوبیس گھنٹے چلتی رہی، جس کے بعد میرا سالہ اور ساس گھر آئیں اور بات چیت کے دوران تلخ کلامی کے بعد سالے نے ہاتھا پائی شروع کر دی جس پر شدید غصے کی حالت میں  میں نے بیوی کو دوسری طلاق دی اور کہا کہ دوسری طلاق دیتا ہوں، اور اپنی بات کو دہرانے کی عادت کی وجہ سے دوسری طلاق کو ہی دہرا گیا، پھر یاد آیا کہ یہ تو تین ہو گئیں۔

واضح  رہے کہ میں بچپن سے ڈپریشن اور اینگزائٹی کی بیماری کا شکار ہوں اور مستقل دوائیں لینی پڑتی ہیں، بیوی سے پچھلے چوبیس گھنٹوں کی لڑائی اور دونوں بیٹیوں کے کئی دن سے بیمار ہونے کی وجہ سے بہت شدید ذہنی دباؤ میں تھا،سالے کے ہاتھ اٹھانے سے اور زیادہ حالت بگڑ گئی تھی،ممکن ہے کہ میں لڑائی کے دوران ہونے والی باتیں بھول گیا ہوں۔

بیوی کا بیان: جب بھائی سے ہاتھا پائی شروع ہوئی تو شوہر نے کہا کہ طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، دوسری یا تیسری کے الفاظ استعمال نہیں  کیے۔

سالے کا بیان (جس سے ہاتھاپائی ہوئی تھی): پہلی بات یہ کہ شوہر نے بیوی کو پہلے سے ایک طلاق دی ہوئی ہے، جب جھگڑا ہوا تو اس وقت جہاں تک مجھے یاد ہے شوہر نے کہا کہ میں پہلی طلاق دیتا ہوں، میں دوسری طلاق دیتا ہوں،تیسری طلاق کا مجھے ٹھیک سے یاد نہیں،لیکن جہاں تک مجھے یاد آ رہا ہے اس نے کہا تھا کہ میں تمہیں تیسری طلاق دیتا ہوں، اسے تین مرتبہ بول چکا تھا، لیکن تیسری کے بارے میں میں سو فیصد یقین سے نہیں کہ سکتا، ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔،دو طلاق کا ٹھیک سے یاد ہے۔

ساس کابیان: جب لڑائی شروع ہوئی تو شوہر نے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،اس کے بعد کا مجھے کچھ یاد نہیں، ذہن میں کچھ نہیں رہا کہ کیا کہا ہے اور کیا نہیں۔

بڑے سالے کا بیان :(جو فون پر یہ سب سن رہے تھے) میں فون پر موجود تھا اور گھر والے شوہر کو سمجھا رہے تھے لیکن شوہر بہت غصے میں تھا، پھر کچھ تلخ کلامی ہوئی اور سالہ بہنوئی آپس میں جھگڑ پڑے، اس وقت شوہر نے کہا کہ میں اسکو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں،دو مرتبہ کہا، اصل الفاظ اسی طرح تھے میرے خیال سے۔۔میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، دو مرتبہ میں نے سنا، اس کے بعد مین نے کال کاٹ کر ابو کو فون کیا کہ وہ وہاں پہنچیں۔

تنقیح:پہلی جو طلاق دی تھی اس کے بعد رجوع کیا تھا اس وقت کیا الفاظ بولے تھے یعنی طلاق کن الفاظ سے دی تھی ؟

جواب تنقیح:اس  بات کو تین سال سے زیادہ ہوگئے ہیں ہوسکتا ہے مجھے ٹھیک سے یاد نہ ہو لیکن جو مجھے یاد ہےمیں نے اس سے کہا تھا کہ میں تمہیں" ایک طلاق دیتا ہوں"،یا "طلاق دیتا ہوں" اس کے بعد میں نے اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہا تھا کہ میں تمہیں ایک طلاق دے چکا ہوں آپ یہاں سے چلی جاؤ مجھے اور غصہ نہ دلاؤوہ چلی گئی تھی پھر بعد میں رجوع ہوگیا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ  شریعت میں شوہرکو تین طلاق تک دینے کا اختیار دیا گیا ہے تین طلاق دینے  کے بعد عورت مطلقہ مغلظہ ہو کر  شوہر پر حرام ہو جاتی ہے،خواہ تین طلاق اس طرح دے کہ درمیان میں رجوع نہ کرے  یا ایک طلاق دے کر پھر رجوع کرے پھر ایک یا دو طلاق دے یہاں تک کہ تین طلاق پورے ہوجائیں تب بھی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں سائل نےپہلی مرتبہ جب اپنی  بیوی کو"میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"  یا "پہلی طلاق دیتا ہوں "کہا تھاتو اس سے  ایک طلاق  رجعی  واقع ہوگئی تھی،  اس کے بعد سائل کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی تھا،لہذا  سائل اورسالے کے جھگڑے کے دوران جب شوہر نے دو طلاقیں اور دی تو رجوع  والی طلاق کو ملاکر کل تین طلاقیں واقع ہوگئیں؛  لہذا تین طلاق کے بعد عورت مطلقہ مغلظہ ہو کر  شوہر پر حرام ہو جاتی ہے،  ا س کے بعد شوہر کے لیے رجوع کرنا  دونوں کا ساتھ رہنا ازدواجی تعلق قائم رکھناجائز نہیں ہے، دونوں کےلیے فورًا  ایک دوسرے سے  جدا ہونا اور اس کے بعد صدق دل سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے،تین طلاق کے بعد بھی دوبارہ ساتھ رہنا بدکاری کے حکم میں  ہے،سائل کی بیوی اپنے شوہر (سائل ) سے   اپنی عدت  (تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور  حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک، اور اگر ایام آتے ہی نہ ہوں تو تین ماہ) گزار کر دوسری جگہ شرعًا  نکاح کرسکتی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن ‌الصريح ‌في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها."

(باب الطلاق،فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية،ج:3،ص:101،ط:دار الكتب العلمية)

شرح فتح القدیر علی الہدایةمیں ہے:

"(وإن كان الطلاق ‌ثلاثا ‌في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230](قوله وإن كان الطلاق ‌ثلاثا ‌في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره إلخ) لا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها لصريح إطلاق النص."

(کتاب الطلاق،فصل فیما تحل بہ المطلقة،ج:4،ص:158،ط:دارالکتب العلمیة)

الدر مع الرد میں ہے:

"(وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا (أو فسخ بجميع أسبابه)....(بعد الدخول حقيقة، أو حكما) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي " إن وطئت " راجع للجميع (ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيضة، فالأولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح، والثالثة لفضيلة الحرية...(و) العدة (في) حق (من لم تحض) حرة أم أم ولد (لصغر) بأن لم تبلغ تسعا (أو كبر).....(ثلاثة أشهر) بالأهلة لو في الغرة وإلا فبالأيام بحر وغيره (إن وطئت) في الكل ولو حكما كالخلوة ولو فاسدة كما مر...(و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا) وطئت أو لا ولو صغيرة، أو كتابية تحت مسلم ولو عبدا فلم يخرج عنها إلا الحامل....(قوله: فلم يخرج عنها إلا الحامل) فإن عدتها للموت وضع الحمل كما في البحر، وهذا إذا مات عنها وهي حامل، أما لو حبلت في العدة بعد موته فلا تتغير في الصحيح."

(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:5، ص:184، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144510100945

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں