بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تین تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم


سوال

میرے پاس تین تولہ سوناہے میں اسکا زکوة کیسے نکالوں؟

جواب

تین (3) تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم یہ ہے کہ  اگر  تین تولہ سونے کے ساتھ نقد رقم (بنیادی ضرورت سے زائد) بھی ہے، اور سونے اور رقم کو  ملاکر  اس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ( جو آج بتاریخ 24/5/2021 کو   چاندی کی  فی تولہ 1447 روپے کے حساب سے  پچھتر ہزار نو سو اڑ سٹھ (75968) روپے بنتے ہیں)  یا اس سے زیادہ بنتی ہے، تو   سالانہ ڈھائی فیصد زکات اداکرنا لازم ہے، البتہ اگر مذکورہ شخص کے پاس صرف تین تولہ سونا ہے، ساتھ میں نقدی، چاندی، یا مالِ تجارت بھی نہیں ہے تو  مذکورہ شخص  پر محض تین تولہ سونے کی وجہ سے زکات نہیں  ہے۔

فتاوی عالمگیری  (الفتاوى الهندية )  میں  ہے:

"وَلَوْ فَضَلَ مِنْ النِّصَابَيْنِ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعَةِ مَثَاقِيلَ، وَأَقَلُّ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَإِنَّهُ تُضَمُّ إحْدَى الزِّيَادَتَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حَتَّى يُتِمَّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا أَوْ أَرْبَعَةَ مَثَاقِيلَ ذَهَبًا كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ. وَلَوْ ضَمَّ أَحَدَ النِّصَابَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حَتَّى يُؤَدِّيَ كُلَّهُ مِنْ الذَّهَبِ أَوْ مِنْ الْفِضَّةِ لَا بَأْسَ بِهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ التَّقْوِيمُ بِمَا هُوَ أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ قَدْرًا وَرَوَاجًا. الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ فِي عُرُوضِ التِّجَارَةِ كَائِنَةً مَا كَانَتْ إذَا بَلَغَتْ قِيمَتُهَا نِصَابًا مِنْ الْوَرِقِ وَالذَّهَبِ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ."

(الفصل الاول والثانى فى زكوة الذهب والفضة والعروض، ج:1، ص:179، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209200905

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں