بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تین تولہ سونا اور کچھ نقدی پر زکوة کا حکم


سوال

 میرے پاس ابھی تین تولے سونا ہے،  اور تھوڑے پیسے بھی ہیں اور ابھی میں نے مہینے کا  کمانا بھی شروع کیا ، تو میں ایک سال بعد کس حساب سے زکوة  دوں  گا؟

جواب

صورت  مسئولہ میں تین تولہ سونے کے ساتھ جس تاریخ کو سائل کی ملکیت میں  اس کی ضرورت سے زائد نقدی  آئی تھی، اس تاریخ سے سائل صاحب نصاب شمار ہوگا، پس اگلے سال اسی تاریخ کو  سائل کے پاس تین تولہ سونے کے ساتھ  جتنی بھی نقدی  اس کی ضرورت سے زائد موجود ہوگی، اسے سونے کی مارکیٹ  ویلیو معلوم کرکے، کل مجموعہ کا چالیسواں حصہ  ( یعنی  ڈھائی فیصد) بطور زکوة ادا کرنا سائل پر لازم ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائعمیں ہے:

"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالًا، فإذا بلغ عشرين مثقالًا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم: «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه، فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر»، وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقومًا بعشرة دراهم.

وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالًا فإذا بلغ عشرين مثقالًا ففيه نصف مثقال»، وسواء كان الذهب لواحد أو كان مشتركًا بين اثنين أنه لا شيء على أحدهما ما لم يبلغ نصيب كل واحد منهما نصابًا عندنا، خلافاً للشافعي".

( كتاب الزكاة، فصل كان له ذهب مفرد، ٢ / ١٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت )

المحيط البرهاني في الفقه النعمانيمیں ہے:

" ويضم الذهب إلى الفضة، والفضة إلى الذهب ويكمل أحد النصابين بالآخر عند علمائنا رحمهم الله؛ لحديث بكر بن عبد لله بن الأشج أنه قال: مضت السنة في ضم الذهب إلى الفضة في باب الزكاة، ولأن الذهب والفضة إن كانا مختلفين صورة فهما متفقان معنى من حيث إنه تعلق بهما وجوب الزكاة، وهو وصف لثمنيته، فجاء تكميل أحدهما بالآخر بخلاف البقر مع الإبل، فإن الزكاة تعلقت بهما باعتبار العين، والأعيان مختلفة حقيقة، ثم قال أبو حنيفة رحمه الله آخرا: يضم باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء، يعني به الوزن. وأشار المعلى في «نوادره» ، إلى أن أبا يوسف رجع عن هذا القول، وقال: يضم باعتبار القيمة."

( كتاب الزكاة، الفصل الثالث في بيان مال الزكاة، ٢ / ٢٤١، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144404101109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں