بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق دینے کا حکم


سوال

میرے دو بچے ہیں ایک 4 سال کا اور بیٹی 12 سال کی،  میری بیوی تین چار سال سے طلاق مانگ رہی تھیں جو میں اس وجہ سے نہیں دے رہا تھا کہ اس بے رحم دنیا میں ایک تنہا عورت کے لیے بہت سے مسائل ہوتے ہیں آپ بخوبی جانتے ہیں،  اور میں اپنی بیوی سے اور بچوں سے بہت محبت کرتا ہوں میں نے اپنی بیوی سے کہا بھی تھا مسائل بڑھیں  گے،  تو اس پر انہوں نے کہا آپ ایک کمرے میں رہ لینا جس کا دروازہ ہمارے گھر سے الگ نکلتا ہو،  جناب میں اپنے بچوں سے الگ نہیں ہونا چاہتا ہفتہ 6 ۔1.2024 کی صبح فجر کے نماز کے ذکر اذکار سے فارغ ہو کر میں لیٹنے کے لے بیٹھا کہ میری بیگم آئی اور کہا کیا کرنا ہے،  میں سمجھا طلاق کا پوچھ رہی ہے، حالانکہ وہ بچاری اس ٹائم بچوں کی پڑھائی کا پوچھنے آئی تھی، اور میرے منہ سے طلاق دینے کے الفاظ تین مرتبہ نکل گیے،  اور میں سکتے میں آگیا،  کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو زبانی   طور پر تین دفعہ  طلاق دے دی،  تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، نکاح ختم ہوچکا ہے، جس کے بعد رجوع اور دوبارہ نکاح ناجائز اور حرام ہے، مطلّقہ عدت  گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع  میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضًا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر."

(کتاب الطلاق، ج:3، ص: 187، ط:ایچ ایم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں