بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1446ھ 25 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد بیوی کے حلال ہونے کی صورت


سوال

کیا اکٹھے تین طلاق کہنے والا وہ طریقہ اختیار کرسکتا ہے جیسے ایک طلاق کہنے والا کے لیے ہے ایک طلاق کہنے والا جملہ یہ ہے اگر اس لڑکی کے سوا جس سے بھی میرا نکاح ہوجائے اس پر طلاق ہو آپ نے بچنے کا طریقہ بتایا اگر دوسرا شخص اس آدمی کے لیے اس آدمی کی اجازت یا حکم کی بغیر نکاح کروادیں اور وہ آدمی کچھ کہے بغیر مھر کا رقم ادا کرے یا عملی طور پر رضامندی کا اظہار کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی، کیا اکٹھے تین طلاق کہنے والا یہ طریقہ کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

تین طلاق اکٹھی یا الگ الگ دینے والے کے لیے بیوی کے حلال ہونے کی حلالہ شریعہ کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200704

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں