بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد ساتھ رہنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اب ایک غیر مقلد ادارے سے فتویٰ لایا ہے کہ وہ ایک طلاق ہوئی ہے اور بیوی کو مجبور کررہا ہےکہ میرے ساتھ چلو شرعاً ہمارا نکاح باقی ہے ۔ کیا اس فتویٰ کو دیکھتے ہوئے کوئی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ چلی جائے ۔ عورت بہت مجبور ہے ۔ اپنا خرچہ اٹھانے کے لیئے بھی کوئی راستہ نہیں ہے ۔

جواب

 واضح رہے کہ  تین طلاقیں شرعا تین ہی شمار ہوتی ہیں،صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان کے بعد کے زمانے کے فقہاء اور علماء کا اس بات پر اجماع ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوں گی لہذا صورت مسئولہ میں جب مذکورہ عورت کے شوہر نے اس کو تین طلاقیں دے دیں  تو مذکورہ خاتون پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور مذکورہ عورت اپنے شوہر ہر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے ۔ اب  ساتھ رہنے کی شرعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ساتھ رہنے کی صورت میں  حرام کاری کے مرتکب ہوں گے اور اللہ کے یہاں سخت مواخذہ ہوگا۔ عدت گزارنے کے بعد مذکورہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية"

(کتاب الطلاق باب الرجعۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۴۷۳، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه.

(قوله: ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وعن الإمامية: لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة وعن ابن عباس يقع به واحدة، وبه قال ابن إسحاق وطاوس وعكرمة لما في مسلم أن ابن عباس قال: «كان الطلاق على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم» وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

قال في الفتح بعد سوق الأحاديث الدالة عليه: وهذا يعارض ما تقدم، وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم مع عدم مخالفة الصحابة له وعلمه بأنها كانت واحدة فلا يمكن إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر."

(کتاب الطلاق ج نمبر ۳ ص نمبر ۲۳۲،ایچ ایم سعید)

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن مالك بلغه أن رجلا قال لعبد الله بن عباس: إني طلقت امرأتي مائة تطليقة فماذا ترى علي؟ فقال ابن عباس: طلقت منك بثلاث، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا. رواه في الموطأ.

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا، ومن الأدلة في ذلك ما في مصنف ابن أبي شيبة والدارقطني من «حديث ابن عمر المتقدم قلت: يا رسول الله أرأيت لو طلقتها ثلاثا، قال: إذا قد عصيت ربك وبانت منك امرأتك» . وفي سنن أبي داود عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس فجاءه رجل فقال: إنه طلق امرأته ثلاثا، قال: فسكت، ظننت أنه ردها إليه ثم قال: يطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول: يا ابن عباس، وإن الله عز وجل يقول: {ومن يتق الله يجعل له مخرجا} [الطلاق: 2] عصيت ربك وبانت منك امرأتك. وفي الموطأ ما تقدم وفيه أيضا بلغه أن رجلا جاء إلى ابن مسعود فقال: إني طلقت امرأتي ثماني تطليقات فقال: ما قيل لك؟ فقال: قيل لي: بانت منك. قال: صدقوا. هو مثل ما يقولون، وظاهره الإجماع على هذا الجواب."

(کتاب النکاح باب الخلع و الطلاق ج نمبر ۵ ص نمبر ۲۱۴۶، دار الکفر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں