بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کا حکم


سوال

مجھے میرے شوہر نے تین طلاق دی ہیں،فون پر بھی اور لکھ کر بھی،کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟کیا رجوع کی گنجائش ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائلہ کے شوہرنے اسے تین طلاق دے دی ہیں تو  اس سےسائلہ   پر  تینوں طلاقیں واقع ہوگئی   ہیں اور وہ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے اور  دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اس کے بعد  رجوع کرنا  جائز نہیں ہے،اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے،بیوی اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ، اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ، ہاں البتہ  مطلقہ اپنی عدت گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے ، اور  دونوں کے درمیان ازدواجی  تعلقات قائم ہونے کے بعد دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا بیوی طلاق لے لے  یا شوہر کا انتقال ہوجاۓ،تو اس کی  عدت گزارنے کے بعد مطلقہ سائل(پہلے شوہر) سے نکاح کرسکتی ہے۔

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ."

ترجمہ:"پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو  تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد ،یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ(عدت کے بعد ) نکاح کرلے."

(بیان القرآن،سورۃ البقرۃ،الآیة:162/1،229،30،ط:رحمانیۃ)

فتاوی شامی  میں ہے:

"‌كتب ‌الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا."

:وفیہ ایضاً

"إن کانت مرسومةً یقع الطلاق نویٰ أو لم ینو، ثم المرسومة لاتخلو إما أرسل الطلاق بأن کتب أما بعد! فأنت طالق، فکما کتب هذا یقع الطلاق، وتلزمها العدة من وقت الکتابة". 

(كتاب الطلاق،مطلب في الطلاق بالكتابة،246/3،ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير."

( كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة...، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،472,73/1،ط:مكتبة رشیدية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144410101080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں