بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد صلح کی کوئی صورت نہیں


سوال

ایک بندہ  اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے دیتا ہے   ، تو اس کے بعد  کیا اب فریقین کے درمیان صلح ہوسکتی ہے؟

 نوٹ ۔اس کا جواب نیٹ پے ہے لیکن بہت لمبا ہے آپ مختصر جواب دے دیں۔

جواب

واضح رہے کہ بیوی کو ایک مجلس میں ایک جملہ میں، یا الگ الگ جملہ میں تین  طلاق دی جائیں، یا الگ الگ مجالس میں  تین طلاق دی جائیں، بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،  اور اسی پر تمام فقہاء کا اجماع ہے، لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوجانے کے بعد بیوی اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے شوہر کو  رجوع کا حق حاصل نہیں ہوتا، اور   دوبارہ نکاح بھی حرام ہوتا ہے،    تین طلاق کے بعد صلح کی کوئی صورت نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ  مطلقہ  خاتون  طلاق کی عدت (  تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو تو،  اور حمل سے ہونے کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک) مکمل کرنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے ، اور جسمانی تعلق قائم ہونے کے بعد وہ اپنے دوسرے شوہر سے طلاق لے لے،  یا دوسرا شوہر خود اسے طلاق دے دے،  یا اس کا انتقال ہوجائے، جس  کی عدت مکمل کرنے کے بعد مذکورہ خاتون کے لئے اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرنا حلال ہوگا  ۔

الجامع لأحكام القرآن للقرطبي میں ہے:

"قال علمائنا: و اتفق ائمة الفتوى علي لزوم إيقاع الطلاق الثلاث في كلمة واحدة."

( تفسير سورة البقرة: ٢٢٩، ٣ / ١٢٩، ط: دار الكتب المصرية - القاهرة)

المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج میں ہے:

"وقد اختلف العلماء فيمن قال لإمرأته: أنت طالق ثلاثاً فقال الشافعي و مالك و أبو حنيفة و أحمد و جماهير العلماء من السلف و الخلف: يقع الثلاث."

( كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، ١٠ / ٧٠، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:

"(قوله: ثلاثة متفرقة) و كذا بكلمة واحدة بالأولى ... و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين الي أنه يقع الثلاث."

( كتاب الطلاق : ركن الطلاق، ٣/٣٣٣ ط: دار الفکر)

التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد في حديث رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم میں ہے :

"فإن طلقها في كل طهر تطليقة، أو طلقها ثلاثا مجتمعات في طهر لم يمسها فيه، فقد لزمه، وليس بمطلق للسنة عند مالك وجمهور أصحابه. وهو قول الأوزاعي، وأبي عبيد."

( مالك عن نافع مولي ابن عمر، ٩ / ٣٤٧، ط: مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي - لندن)

كتاب الام للشافعي میں ہے:

" وقال تبارك وتعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] (قال الشافعي) : والقرآن يدل والله أعلم على أن من طلق زوجة له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره فإذا قال الرجل لامرأته التي لم يدخل بها أنت طالق ثلاثا فقد حرمت عليه حتى تنكح زوجا غيره أخبرنا مالك عن ابن شهاب عن الزهري عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن محمد بن إياس بن البكير قال طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتي فسأل أبا هريرة وعبد الله بن عباس فقالا لا نرى أن تنكحها حتى تتزوج زوجا غيرك فقال إنما كان طلاقي إياها واحدة فقال ابن عباس إنك أرسلت من يدك ما كان لك من فضل."

( اباحة الطلاق، طلاق التي لم يدخل بها، ٥ / ١٩٦، ط: دار المعرفة - بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط للإحلال."

( كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ١ / ٤٧٣، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100632

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں