بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق دینے سے طلاق کا حکم


سوال

کیا تین طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

1- اگر میاں بیوی نکاح کے بعد تنہائی میں مل چکے ہوں جہاں  وہ ازدواجی تعلقات پر قدرت رکھتے تھے اسے خلوتِ صحیحہ کہتے ہیں، اگر خلوتِ صحیحہ کے بعد شوہر اپنی بیوی کو  بیک وقت ایک جملے میں یا کئی جملوں میں تین طلاقیں دے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
2- اگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے ایک جملے میں تین طلاقیں دیں تب بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
3- اگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے تین الگ الگ جملوں میں تین طلاقیں دیں تو پہلی طلاق واقع ہونے سے بیوی بائنہ اور اجنبیہ ہوجائے گی، بقیہ دو طلاقوں کا محل اور مقام نہیں رہے گا۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

تین طلاق ایک مجلس میں دینا

ایک مجلس کی تین طلاقیں

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200952

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں