بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

تصویر اور تمثیل میں کیا فرق ہے؟


سوال

 تصویر اور تمثیل میں کیا فرق ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تصویر اور تمثیل میں  اہلِ لغت نے فرق بیان کیے ہیں ،لیکن فقہاء کرام میں سے اکثر نے تصویر اور تمثیل میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ،البتہ بعض فقہاء نے تصویر اور تمثیل میں فرق ملحوظ رکھا ہے ۔

ملاحظہ ہو :

1)تصویر  سے کبھی تو ایسا ہوتا ہے ،کہ وہی چیز بعینہ مراد لی جاتی ہے ، جس کا ذکر کیا جائے ،اور کبھی تصویر سے مراد بعینہ وہی چیز تو مراد نہیں ہوتی لیکن ایسی چیز مراد ہوتی ہے ،جو اس چیز کی حکایت کرتی ہے ،جو اصلاً  تصویر سے مراد ہو۔

تمثیل:جہاں تک مجسمے کا تعلق ہے، یہ وہ تصویر ہے جو چیز کی کہانی بیان کرتی ہے اور اس سے مشابہت رکھتی ہے۔ اسے لیے کسی چیز کی تصویر کو بذات خود اس کا مجسمہ نہیں کہا جا سکتا۔

2)   اسی طرح مجسمے کو   لغوی اعتبار سے بے جان اشیاء کی نمائندگی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے،جب کہ تصویر عام ہے ،جمادات  و غیرجمادات دونوں کو شامل ہے ۔

3)البتہ اکثر  فقہاء کرام کے عرف میں "تصویر اور تمثیل "میں کوئی فرق نہیں ہے ، دونوں کسی بھی چیز کی حکایت  کے لیے ایک دوسرے  کی جگہ استعمال ہوتے ہیں ۔

لیکن ان میں سے بعض  فقہاءنے(تمثیل) مجسمے کو کسی ایسی چیز کی شبیہ سے منسوب کیا جس میں روح  ہو، یعنی انسان یا جانور کی تصویر، خواہ سہ جہتی ہو یا چپٹی۔

تصویر اس سے زیادہ عام ہے۔اس کااستعمال دونوں کے لیے عام ہے ،علامہ شامی نے بھی اسی فرق کو اپنے فتاویٰ میں ملحوظ رکھا اور "المغرب " سے نقل کر کے ذکر فرمایا ۔

المو سوعۃ الفقھیۃ میں ہے :

"فالفرق بين التمثال وبين الصورة: أن صورة الشيء قد يراد بها الشيء نفسه، وقد يراد به  غيره مما يحكي هيئة الأصل، أما التمثال فهو الصورة التي تحكي الشيء وتماثله، ولا يقال لصورة الشيء في نفسه: إنها تمثاله.

5 - ومما يبين أن التمثال أيضا في اللغة يستعمل لصور الجمادات ما ورد في صحيح البخاري أن المسيح الدجال يأتي ومعه تمثال الجنة والنار. 

أما في عرف الفقهاء، فإنه باستقراء كلامهم تبين أن أكثرهم لا يفرقون في الاستعمال بين لفظي (الصورة) (والتمثال) ، إلا أن بعضهم خص التمثال بصورة ما كان ذا روح، أي صورة الإنسان أو الحيوان، سواء أكان مجسما أو مسطحا، دون صورة شمس أو قمر أو بيت، وأما الصورة فهي أعم من ذلك. نقله ابن عابدين عن المغرب. 

وهذا البحث جار على الاصطلاح الأغلب عند الفقهاء، وهو أن الصورة التي تحكي الشيء، والتمثال بمعنى واحد."

(تصوير ۔۔تماثيل ۔۔ج:12 ،ص:94 ،ط:دارالفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"في المغرب: ‌الصورة عام في ذي الروح وغيره، والتمثال خاص بمثال ذي الروح."

(كتاب الصلوة ،‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيهاب،ج:1،ص:647 ،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503101795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں