بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تشبیبی اشعار کا حکم


سوال

آج کل بہت سے شاعر اپنے شعر و شاعری میں عشق معشوقی والے کلمات لکھتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟

جیسے کہ قرآن میں اللہ نے شعر و شاعری کو غلط کہا ہے۔  لیکن حدیث میں فرمایاگیا کہ اگر شعر و شاعری میں نصیحت ہو یا دین کے بارے میں   ہو تو جائز ہے۔

نیز اگر شعر و شاعری دین سے ہٹ کر کسی اور لایعنی موضوع جیسے کے عاشقی وغیرہ کے بارے میں ہو تو  کیا وہ جائز ہے؟

جواب

ایسے اشعار جس میں فحش گوئی نہ ہو، یا کسی متعین خاتون کے محاسن نہ بیان کئے گئے ہوں، یا اس میں گناہ کی ترغیب نہ ہو، نیز  جھوٹ بہتان طرازی  نہ ہو، اس کے کہنے و سننے سے  شہوانی جذبات پیدا نہ ہوتے ہوں ، اور بد دینی کو پروان نہ چڑھاتے ہوں، اور نہ ان میں مشرکانہ عقائد کی پرچار ہو، اور نہ ہی توہین مذہب، و توہین خاتم النبین ، و اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ و علی  جمیع اصحابہ   ہو، تو ایسے اشعار کہنا، سننا جائز ہوگا، بشرطیکہ موسیقی کے ساتھ نہ ہوں، البتہ  شعر شاعری کو اپنا ذریعہ معاش بناکر  احکام  شرع سے بے بہرہ ہوجانا جائز نہ ہوگا

سورہ شعراء میں جن شعراء کی مذمت وارد ہوئی ہے، اس سے مراد وہ شعراء ہیں، جن کے اشعارہزلیات،  جھوٹ، بہتان طرازی، گناہوں کی ترغیب، شرک و بدعات کی تعلیم اور غیر اللہ کی خدائی کےدعوی  پر مشتمل ہوتے ہیں،  پس جو اشعار حکمت و دانائی، حمد باری تعالی، و نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام کی شوکت  ، دیگر امور  ممدوحہ پر مشتمل ہوں، وہ اس قرآنی مذمت میں داخل نہیں، یہی وجہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا ایسے اشعار سننا ثابت ہے۔

معارف القرآن از مفتی محمد شفیع میں ہے:

"وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ، اصل لغت میں شعر ہر اس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں محض خیالی اور غیر تحقیقی مضامین بیان کئے گئے ہوں جس میں کوئی بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کچھ شرط نہیں، فن منطق میں بھی ایسے ہی مضامین کو ادلہ شعریہ اور قضایا شعریہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی شعر و غزل میں بھی چونکہ عموماً خیالات کا ہی غلبہ ہوتا ہے اس لئے اصطلاح شعراء میں کلام موزوں مقفّٰی کو شعر کہنے لگے۔

بعض مفسرین نے آیات قرآن  بَلْ هُوَ شَاعِرٌ، شَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ، شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ وغیرہ میں شعر اصطلاحی کے معنی میں مراد لے کر کہا کہ کفار مکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وزن دار، قافیہ دار کلام لانے والے کہتے تھے لیکن بعض نے کہا کہ کفار کا مقصد یہ نہ تھا، اس لئے کہ وہ شعر کے طرز و طریق سے واقف تھے اور ظاہر ہے کہ قرآن اشعار کا مجموعہ نہیں اس کا قائل تو ایک عجمی بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ فصیح وبلیغ عرب، بلکہ کفار آپ کو شاعر شعر کے اصلی معنے یعنی خیالی مضامین کے لحاظ سے کہتے تھے۔ مقصد ان کا دراصل آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا کہنا تھا کیونکہ شعر بمعنی کذب بھی استعمال ہوتا ہے اور شاعر کاذب کو کہا جاتا ہے۔ اس لئے ادلہ کا ذبہ کو ادلہ شعریہ کہا جاتا ہے خلاصہ یہ کہ جیسے موزوں اور مقفّٰی کلام کو شعر کہتے ہیں اسی طرح ظنی اور تخمینی کلام کو بھی شعر کہتے ہیں جو اہل منطق کی اصطلاح ہے۔

وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ، اس آیت میں شعر کے اصطلاحی اور معروف معنے ہی مراد ہیں۔ یعنی موزوں و مقفّٰی کلام کہنے والے، اس کی تائید فتح الباری کی روایت سے ہوتی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عبداللہ بن رواحة، حسان بن ثابت اور کعب بن مالک جو شعراء صحابہ میں مشہور ہیں روتے ہوئے سرکار دو عالم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ خدائے ذوالجلال نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور ہم بھی شعر کہتے ہیں،حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آیت کے آخری حصہ کو پڑھو۔ مقصد یہ تھا کہ تمہارے اشعار بیہودہ اور غلط مقصد کے لئے نہیں ہوتے اس لئے تم اس استثناء میں داخل ہو جو آخر آیت میں مذکور ہے اس لئے مفسرین نے فرمایا کہ ابتدائی آیت میں مشرکین شعراء مراد ہیں کیونکہ گمراہ لوگ سرکش شیطان اور نافرمان جن ان ہی کے اشعار کی اتباع کرتے تھے اور روایت کرتے تھے (کما فی فتح الباری)

شریعت اسلام میں شعر و شاعری کا درجہ

آیات مذکورہ کے شروع سے شعر و شاعری کی سخت مذمت اور اس کا عنداللہ مبغوض ہونا معلوم ہوتا ہے مگر آخر سورت میں جو استثناء مذکور ہے اس سے ثابت ہوا کہ شعر مطلقاً برا نہیں بلکہ جب جس شعر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یا اللہ کے ذکر سے روکنا یا جھوٹ ناحق کسی انسان کی مذمت اور توہین ہو یا فحش کلام اور فواحش کے لئے محرک ہو وہ مذموم و مکروہ ہے اور جو اشعار ان معاصی اور مکروہات سے پاک ہوں ان کو اللہ تعالیٰ نےاِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الآيةکے ذریعہ مستثنی فرما دیا ہے اور بعض اشعار تو حکیمانہ مضامین اور وعظ و نصیحت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اطاعت وثواب میں داخل ہیں جیسا کہ حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے کہ : ان من الشعر حکمة، یعنی بعض شعر حکمت ہوتے ہیں (رواہ البخاری)

حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ حکمت سے مراد سچی بات ہے جو حق کے مطابق ہو۔ ابن بطال نے فرمایا جس شعر میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کا ذکر، اسلام سے الفت کا بیان ہو وہ شعر مرغوب و محمود ہے اور حدیث مذکور میں ایسا ہی شعر مراد ہے اور جس شعر میں جھوٹ اور فحش بیان ہو وہ مذموم ہے اس کی مزید تائید مندرجہ ذیل روایات سے ہوتی ہے:

1۔   عمر بن الشرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی الصلت کے سو قافیہ تک اشعار سنے۔

2۔  مطرف فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ سے بصرہ تک حضرت عمران بن حصین کے ساتھ سفر کیا اور ہر منزل پر وہ شعر سناتے تھے۔

3۔ طبری نے کبار صحابہ اور کبار تابعین کے متعلق کہا کہ وہ شعر کہتے تھے سنتے تھے اور سناتے تھے۔

4۔   امام بخاری فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ شعر کہا کرتی تھیں۔

5 ۔ ابو یعلی نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ شعر ایک کلام ہے اگر اس کا مضمون اچھا اور مفید ہے تو شعر اچھا ہے اور مضمون برا یا گناہ کا ہے تو شعر برا ہے۔ (فتح الباری)

تفسیر قرطبی میں ہے کہ مدینہ منورہ کے فقہاء عشرہ جو اپنے علم و فضل میں معروف ہیں ان میں سے عبید اللہ بن عتبہ بن مسعود، مشہور قادر کلام شاعر تھے اور قاضی زبیر بن بکار کے اشعار ایک مستقل کتاب میں جمع تھے۔ پھر قرطبی نے لکھا کہ ابو عمرو نے فرمایا ہے کہ اچھے مضامین پر مشتمل اشعار کو اہل علم اور اہل عقل میں سے کوئی برا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ اکابر صحابہ جو دین کے مقتدا ہیں ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے خود شعر نہ کہے ہوں یا دوسروں کے اشعار نہ پڑھے یا سنے ہوں اور پسند کیا ہو۔ 

جن روایات میں شعر شاعری کی مذمت مذکور ہے ان سے مقصود یہ ہے کہ شعر میں اتنا مصروف اور منہمک ہوجائے کہ ذکر اللہ عبادت اور قرآن سے غافل ہوجائے۔ امام بخاری نے اس کو ایک مستقل باب میں بیان فرمایا ہے اور اس باب میں حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت نقل کی ہے۔ لان یمتلئ جوف رجل قیحاً یريه خیر من ان یمتلئ شعراً، یعنی کوئی آدمی پیپ سے اپنا پیٹ بھرے یہ اس سے بہتر ہے کہ اشعار سے پیٹ بھرے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ شعر جب ذکر اللہ اور قرآن اور علم کے اشتغال پر غالب آجائے اور اگر شعر مغلوب ہے تو پھر برا نہیں ہے اسی طرح وہ اشعار جو فحش مضامین یا لوگوں پر طعن وتشنیع یا دوسرے خلاف شرع مضامین پر مشتمل ہوں وہ باجماع امت حرام و ناجائز ہیں اور یہ کچھ شعر کے ساتھ مخصوص نہیں جو نثر کلام ایسا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (قرطبی)

حضرت عمر بن خطاب نے اپنے گورنر عدی بن نضلہ کو ان کے عہدہ سے اس لئے برخاست کردیا کہ وہ فحش اشعار کہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عمرو بن ربیعہ اور ابوالاحوص کو اسی جرم میں جلا وطن کرنے کا حکم دیا۔ عمرو بن ربیعہ نے توبہ کرلی وہ قبول کی گئی۔ (قرطبی)

خدا و آخرت سے غافل کردینے والا ہر علم اور فن مذموم ہے:

ابن ابی جمرہ نے فرمایا کہ بہت قافیہ بازی اور ہر ایسا علم و فن جو دلوں کو سخت کر دے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے انحراف و اعراض کا سبب بنے اور اعتقادات میں شکوک و شبہات اور روحانی بیماریاں پیدا کرے اس کا بھی وہی حکم ہے جو مذموم اشعار کا حکم ہے۔

(معارف القرآن، ج: 6، ص: 544/545 ط: معارف القرآن)  

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے:

غزل لکھنے کا حکم

کیا قرآن مجید میں شعراء پر لعنت بھیجی گئی ہے؟

شعر و شاعری کا حکم / سوشل میڈیا پر غیر محرم سے بات چیت

تفسير  القرطبی میں ہے:

"قوله تعالى : والشعراء يتبعهم الغاوون فيه ست مسائل :

الأولى: قوله تعالى: والشعراء جمع شاعر مثل جاهل وجهلاء ; قال ابن عباس: هم الكفار يتبعهم ضلال الجن والإنس. وقيل ( الغاوون ) الزائلون عن الحق، ودل بهذا أن الشعراء أيضا غاوون؛ لأنهم لو لم يكونوا غاوين ما كان أتباعهم كذلك. وقد قدمنا في سورة ( النور ) أن من الشعر ما يجوز إنشاده، ويكره، ويحرم. روى مسلم من حديث عمرو بن الشريد عن أبيه قال: ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال: هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء قلت: نعم. قال هيه فأنشدته بيتا. فقال هيه ثم أنشدته بيتا. فقال هيه حتى أنشدته مائة بيت. هكذا، صواب هذا السند وصحيح روايته. وقد وقع لبعض رواة كتاب مسلم: عن عمرو بن الشريد عن الشريد أبيه؛ وهو وهم لأن الشريد هو الذي أردفه رسول الله صلى الله عليه وسلم. واسم أبي الشريد سويد. وفي هذا دليل على حفظ الأشعار والاعتناء بها إذا تضمنت الحكم والمعاني المستحسنة شرعا وطبعا، وإنما استكثر النبي صلى الله عليه وسلم من شعر أمية لأنه كان حكيما؛ ألا ترى قوله عليه السلام: وكاد أمية بن أبي الصلت أن يسلم فأما ما تضمن ذكر الله وحمده والثناء عليه فذلك مندوب إليه، كقول القائل:

الحمد لله العلي المنان صار الثريد في رءوس العيدان أو ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم أو مدحه كقول العباس:

من قبلها طبت في الظلال وفي مس تودع حيث يخصف الورق ثم هبطت البلاد لا بشر أن ت ولا مضغة ولا علق بل نطفة تركب السفين وقد أل جم نسرا وأهله الغرق تنقل من صالب إلى رحم إذا مضى عالم بدا طبق، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: لا يفضض الله فاك. أو الذب عنه كقول حسان:

هجوت محمدا فأجبت عنه وعند الله في ذاك الجزاء

وهي أبيات ذكرها مسلم في صحيحه وهي في السير أتم. أو الصلاة عليه، كما روى زيد بن أسلم: خرج عمر ليلة يحرس فرأى مصباحا في بيت، وإذا عجوز تنفش صوفا وتقول:

على محمد صلاة الأبرار صلى عليه الطيبون الأخيار

قد كنت قواما بكا بالأسحار يا ليت شعري والمنايا أطوار

هل يجمعني وحبيبي الدار

يعني النبي صلى الله عليه وسلم ; فجلس عمر يبكي . وكذلك ذكر أصحابه ومدحهم رضي الله عنهم ; ولقد أحسن محمد بن سابق حيث قال :

إني رضيت عليا للهدى علما كما رضيت عتيقا صاحب الغار

وقد رضيت أبا حفص وشيعته وما رضيت بقتل الشيخ في الدار

كل الصحابة عندي قدوة علم فهل علي بهذا القول من عار

إن كنت تعلم أني لا أحبهم إلا من أجلك فاعتقني من النار

وقال آخر فأحسن:

حب النبي رسول الله مفترض وحب أصحابه نور ببرهان

من كان يعلم أن الله خالقه لا يرمين أبا بكر ببهتان

ولا أبا حفص الفاروق صاحبه ولا الخليفة عثمان بن عفان

أما علي فمشهور فضائله والبيت لا يستوي إلا بأركان

قال ابن العربي: أما الاستعارات في التشبيهات فمأذون فيها وإن استغرقت الحد وتجاوزت المعتاد؛ فبذلك يضرب الملك الموكل بالرؤيا المثل، وقد أنشد كعب بن زهير النبي صلى الله عليه وسلم :

بانت سعاد فقلبي اليوم متبول متيم إثرها لم يفد مكبول

وما سعاد غداة البين إذ رحلوا إلا أغن غضيض الطرف مكحول

تجلو عوارض ذي ظلم إذا ابتسمت كأنه منهل بالراح معلول

فجاء في هذه القصيدة من الاستعارات والتشبيهات بكل بديع ، والنبي صلى الله عليه وسلم يسمع ولا ينكر في تشبيهه ريقها بالراح . وأنشد أبو بكر رضي الله عنه:

فقدنا الوحي إذ وليت عنا وودعنا من الله الكلام

سوى ما قد تركت لنا رهينا توارثه القراطيس الكرام

فقد أورثتنا ميراث صدق عليك به التحية والسلام

فإذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمعه وأبو بكر ينشده ، فهل للتقليد والاقتداء موضع أرفع من هذا . قال أبو عمر: ولا ينكر الحسن من الشعر أحد من أهل العلم ولا من أولي النهى، وليس أحد من كبار الصحابة وأهل العلم وموضع القدوة إلا وقد قال الشعر، أو تمثل به أو سمعه فرضيه ما كان حكمة أو مباحا ، ولم يكن فيه فحش ولا خنا ولا لمسلم أذى، فإذا كان كذلك فهو والمنثور من القول سواء لا يحل سماعه ولا قوله؛ وروى أبو هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يقول: أصدق كلمة - أو أشعر كلمة - قالتها العرب قول لبيد:

ألا كل شيء ما خلا الله باطل

أخرجه مسلم وزاد وكاد أمية بن أبي الصلت أن يسلم وروي عن ابن سيرين أنه أنشد شعرا فقال له بعض جلسائه : مثلك ينشد الشعر يا أبا بكر. فقال: ويلك يا لكع ! وهل الشعر إلا كلام لا يخالف سائر الكلام إلا في القوافي، فحسنه حسن وقبيحه قبيح ! قال : وقد كانوا يتذاكرون الشعر. قال : وسمعت ابن عمر ينشد:

يحب الخمر من مال الندامى ويكره أن يفارقه الغلوس

وكان عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود أحد فقهاء المدينة العشرة ثم المشيخة السبعة شاعرا مجيدا مقدما فيه. وللزبير بن بكار القاضي في أشعاره كتاب، وكانت له زوجة حسنة تسمى عثمة فعتب عليها في بعض الأمر فطلقها، وله فيها أشعار كثيرة ; منها قوله:

تغلغل حب عثمة في فؤادي فباديه مع الخافي يسير

تغلغل حيث لم يبلغ شراب ولا حزن ولم يبلغ سرور

أكاد إذا ذكرت العهد منها أطير لو أن إنسانا يطير

وقال ابن شهاب : قلت له تقول الشعر في نسكك وفضلك ! فقال : إن المصدور إذا نفث برأ.

الثانية: وأما الشعر المذموم الذي لا يحل سماعه وصاحبه ملوم، فهو المتكلم بالباطل حتى يفضلوا أجبن الناس على عنترة، وأشحهم على حاتم، وأن يبهتوا البريء ويفسقوا التقي، وأن يفرطوا في القول بما لم يفعله المرء؛ رغبة في تسلية النفس وتحسين القول؛ كما روي عن الفرزدق أن سليمان بن عبد الملك سمع قوله:

فبتن بجانبي مصرعات وبت أفض أغلاق الختام

فقال: قد وجب عليك الحد. فقال: يا أمير المؤمنين قد درأ الله عني الحد بقوله: وأنهم يقولون ما لا يفعلون. وروي أن النعمان بن عدي بن نضلة كان عاملا لعمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال:

من مبلغ الحسناء أن حليلها بميسان يسقى في زجاج وحنتم

إذا شئت غنتني دهاقين قرية ورقاصة تجذو على كل منسم

فإن كنت ندماني فبالأكبر اسقني. ولا تسقني بالأصغر المتثلم

لعل أمير المؤمنين يسوءه تنادمنا بالجوسق المتهدم

فبلغ ذلك عمر فأرسل إليه بالقدوم عليه. وقال: إي والله إني ليسوءني ذلك. فقال: يا أمير المؤمنين ما فعلت شيئا مما قلت: وإنما كانت فضلة من القول، وقد قال الله تعالى: والشعراء يتبعهم الغاوون ألم تر أنهم في كل واد يهيمون وأنهم يقولون ما لا يفعلون فقال له عمر: أما عذرك فقد درأ عنك الحد ; ولكن لا تعمل لي عملا أبدا وقد قلت ما قلت. وذكر الزبير بن بكار قال: حدثني مصعب بن عثمان أن عمر بن عبد العزيز لما ولي الخلافة لم يكن له هم إلا عمر بن أبي ربيعة والأحوص فكتب إلى عامله على المدينة: إني قد عرفت عمر والأحوص بالشر والخبث فإذا أتاك كتابي هذا فاشدد عليهما واحملهما إلي. فلما أتاه الكتاب حملهما إليه، فأقبل على عمر، فقال: هيه!

فلم أر كالتجمير منظر ناظر ولا كليالي الحج أفلتن ذا هوى

وكم مالئ عينيه من شيء غيره. إذا راح نحو الجمرة البيض كالدمى

أما والله لو اهتممت بحجك لم تنظر إلى شيء غيرك ; فإذا لم يفلت الناس منك في هذه الأيام فمتى يفلتون ! ثم أمر بنفيه. فقال: يا أمير المؤمنين! أوخير من ذلك؟ فقال: ما هو؟ قال: أعاهد الله أني لا أعود إلى مثل هذا الشعر، ولا أذكر النساء في شعر أبدا، وأجدد توبة، فقال: أوتفعل؟ قال: نعم، فعاهد الله على توبته وخلاه؛ ثم دعا بالأحوص، فقال هيه!

الله بيني وبين قيمها يفر مني بها وأتبع

بل الله بين قيمها وبينك! ثم أمر بنفيه؛ فكلمه فيه رجال من الأنصار فأبى، وقال: والله لا أرده ما كان لي سلطان، فإنه فاسق مجاهر. فهذا حكم الشعر المذموم وحكم صاحبه، فلا يحل سماعه ولا إنشاده في مسجد ولا غيره، كمنثور الكلام القبيح ونحوه. وروى إسماعيل بن عياش عن عبد الله بن عون عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حسن الشعر كحسن الكلام وقبيحه كقبيح الكلام رواه إسماعيل عن عبد الله الشامي وحديثه عن أهل الشام صحيح فيما قال يحيى بن معين وغيره. وروى عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الشعر بمنزلة الكلام حسنه كحسن الكلام وقبيحه كقبيح الكلام.

الثالثة : روى مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه خير من أن يمتلئ شعرا وفي الصحيح أيضا عن أبي سعيد الخدري قال : بينا نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ عرض شاعر ينشد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : خذوا الشيطان - أو : أمسكوا الشيطان - لأن يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا قال علماؤنا : وإنما فعل النبي صلى الله عليه وسلم هذا مع هذا الشاعر لما علم من حاله ، فلعل هذا الشاعر كان ممن قد عرف من حاله أنه قد اتخذ الشعر طريقا للتكسب ، فيفرط في المدح إذا أعطي ، وفي الهجو والذم إذا منع ، فيؤذي الناس في أموالهم وأعراضهم . ولا خلاف في أن من كان على مثل هذه الحالة فكل ما يكتسبه بالشعر حرام . وكل ما يقوله من ذلك حرام عليه ، ولا يحل الإصغاء إليه ، بل يجب الإنكار عليه ، فإن لم يمكن ذلك لمن خاف من لسانه قطعا ; تعين عليه أن يداريه بما استطاع ، ويدافعه بما أمكن ، ولا يحل له أن يعطي شيئا ابتداء ، لأن ذلك عون على المعصية ، فإن لم يجد من ذلك بدا أعطاه بنية وقاية العرض ; فما وقى به المرء عرضه كتب له به صدقة . قلت : قوله : لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه القيح المدة يخالطها دم . يقال منه : قاح الجرح يقيح وتقيح وقيح . و ( يريه ) قال الأصمعي : هو من الوري على مثال الرمي وهو أن يدوى جوفه ، يقال منه : رجل موري ، مشدد غير مهموز . وفي الصحاح : وري القيح جوفه يريه وريا : إذا أكله . وأنشد اليزيدي :

قالت له وريا إذا تنحنحا

وهذا الحديث أحسن ما قيل في تأويله : إنه الذي قد غلب عليه الشعر ، وامتلأ صدره منه دون علم سواه ولا شيء من الذكر ، ممن يخوض به في الباطل ، ويسلك به مسالك لا تحمد له ، كالمكثر من اللغط والهذر والغيبة وقبيح القول . ومن كان الغالب عليه الشعر لزمته هذه الأوصاف المذمومة الدنية ، لحكم العادة الأدبية . وهذا المعنى هو الذي أشار إليه البخاري في صحيحه لما بوب على هذا الحديث ( باب ما يكره أن يكون الغالب على الإنسان الشعر ) . وقد قيل في تأويله : إن المراد بذلك الشعر الذي هجي به النبي صلى الله عليه وسلم أو غيره . وهذا ليس بشيء ; لأن القليل من هجو النبي صلى الله عليه وسلم وكثيره سواء في أنه كفر ومذموم ، وكذلك هجو غير النبي صلى الله عليه وسلم من المسلمين محرم قليله وكثيره ، وحينئذ لا يكون لتخصيص الذم بالكثير معنى .

الرابعة : قال الشافعي : الشعر نوع من الكلام حسنه كحسن الكلام وقبيحه كقبيح الكلام ، يعني أن الشعر ليس يكره لذاته وإنما يكره لمضمناته ، وقد كان عند العرب عظيم الموقع . قال الأول منهم:

وجرح اللسان كجرح اليد

وقال النبي صلى الله عليه وسلم في الشعر الذي يرد به حسان على المشركين : إنه لأسرع فيهم من رشق النبل أخرجه مسلم . وروى الترمذي وصححه عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة في عمرة القضاء وعبد الله بن رواحة يمشي بين يديه ويقول :

خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله

ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله

فقال عمر : يا ابن رواحة ! في حرم الله وبين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : خل عنه يا عمر فلهو أسرع فيهم من نضح النبل .

الخامسة : قوله تعالى : والشعراء يتبعهم الغاوون لم يختلف القراء في رفع ( والشعراء ) فيما علمت . ويجوز النصب على إضمار فعل يفسره " يتبعهم " وبه قرأ عيسى بن عمر ; قال أبو عبيد : كان الغالب عليه حب النصب ; قرأ والسارق والسارقة و حمالة الحطب و سورة أنزلناها . وقرأ نافع وشيبة والحسن والسلمي : ( يتبعهم ) مخففا . الباقون " يتبعهم " . وقال الضحاك : تهاجى رجلان أحدهما أنصاري والآخر مهاجري على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مع كل واحد غواة قومه وهم السفهاء فنزلت ; وقاله ابن عباس . وعنه هم الرواة للشعر . وروى عنه علي بن أبي طلحة أنهم هم الكفار يتبعهم ضلال الجن والإنس ; وقد ذكرناه . وروى غضيف عن النبي صلى الله عليه وسلم : من أحدث هجاء في الإسلام فاقطعوا لسانه وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم لما افتتح مكة رن إبليس رنة وجمع إليه ذريته ; فقال ايئسوا أن تريدوا أمة محمد على الشرك بعد يومكم هذا ولكن أفشوا فيهما - يعني مكة والمدينة - الشعر. 

السادسة- قوله تعالى: (ألم تر أنهم في كل واد يهيمون) يقول: في كل لغو يخوضون، ولا يتبعون سنن الحق، لأن من اتبع الحق وعلم أنه يكتب عليه ما يقوله تثبت، ولم يكن هائما يذهب على وجهه لا يبالي ما قال. نزلت في عبد الله بن الزبعرى ومسافع بن عبد مناف وأمية بن أبي الصلت. (وأنهم يقولون ما لا يفعلون) يقول: أكثرهم يكذبون، أي يدلون بكلامهم على الكرم والخير ولا يفعلونه. وقيل: إنها نزلت في أبي عزة الجمحي حيث قال:

ألا أبلغا عني النبي محمدا … بأنك حق والمليك حميد

 ولكن إذا ذكرت بدرا وأهله … تأوه مني أعظم وجلود

ثم استثنى شعر المؤمنين: حسان بن ثابت وعبد الله بن رواحة وكعب بن مالك وكعب بن زهير ومن كان على طريقهم من القول الحق، فقال: (إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا) في كلامهم (وانتصروا من بعد ما ظلموا) وإنما يكون الانتصار بالحق، ومما حده الله عز وجل، فإن تجاوز ذلك فقد انتصر بالباطل. وقال أبو الحسن المبرد: لما نزلت:" والشعراء" جاء حسان وكعب بن مالك وابن رواحة يبكون إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: يا نبي الله! أنزل الله تعالى هذه الآية، وهو تعالى يعلم أنا شعراء؟ فقال:" اقرءوا ما بعدها" إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات"- الآية- أنتم" وانتصروا من بعد ما ظلموا" أنتم" أي بالرد على المشركين. قال النبي صلى الله عليه وسلم:" انتصروا ولا تقولوا إلا حقا ولا تذكروا الآباء والأمهات" فقال حسان لأبي سفيان:

هجوت محمدا فأجبت عنه … وعند الله في ذاك الجزاء

 وإن أبي ووالدتي وعرضي … لعرض محمد منكم وقاء

 أتشتمه ولست له بكفء … فشركما لخيركما الفداء

 لساني صارم لا عيب فيه … وبحري لا تكدره الدلاء

وقال كعب يا رسول الله! إن الله قد أنزل في الشعر ما قد علمت فكيف ترى فيه؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن المؤمن يجاهد بنفسه وسيفه ولسانه والذي نفسي بيده لكأن ما ترمونهم به نضح النبل". وقال كعب:

جاءت سخينة «1» كي تغالب ربها … وليغلبن مغالب الغلاب

فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" لقد مدحك الله يا كعب في قولك هذا". وروى الضحاك عن ابن عباس أنه قال في قوله تعالى:" والشعراء يتبعهم الغاوون" منسوخ بقوله:" إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات". قال المهدوي: وفي الصحيح عن ابن عباس أنه استثناء. (وسيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون) في هذا تهديد لمن انتصر بظلم [أي «2»] سيعلم الظالمون كيف يخلصون من بين يدي الله عز وجل، فالظالم ينتظر العقاب، والمظلوم ينتظر النصرة. وقرأ ابن عباس:" أي منفلت ينفلتون" بالفاء والتاء ومعناهما واحد الثعلبي: ومعنى" أي منقلب ينقلبون" أي مصير يصيرون وأي مرجع يرجعون، لأن مصيرهم إلى النار، وهو أقبح مصير، ومرجعهم إلى العقاب وهو شر مرجع. والفرق بين المنقلب والمرجع أن المنقلب الانتقال إلى ضد ما هو فيه، والمرجع العود من حال هو فيها إلى حال كان عليها فصار كل مرجع منقلبا، وليس كل منقلب مرجعا، والله أعلم، ذكره الماوردي. و" أي" منصوب ب" ينقلبون" وهو بمعنى المصدر، ولا يجوز أن يكون منصوبا ب" سيعلم" لأن أيا وسائر أسماء الاستفهام لا يعمل فيها ما قبلها فيما ذكر النحويون، قال النحاس: وحقيقة القول في ذلك أن الاستفهام معنى وما قبله معنى آخر فلو عمل فيه ما قبله لدخل بعض المعاني في بعض."

(سورة الشعراء، ج: 13 ص: 154 ط: دار الکتب المصریة)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144207200430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں