بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غزل لکھنے کا حکم


سوال

غزل لکھنا کیسا ہے ؟

جواب

فقہاء نے مباح اشعار کے پڑھنے کوجائز قراردیا ہے، لہذا ایسی غزلیں جو عبرت آموز اور نصیحت خیز ہوں، صالح مقصد کی حامل  اور تعمیری ہوں، ان کا لکھنا اور کہنا  جائز ہے۔  لیکن اگر کسی غزل کا مقصد  سفلی جذبات کو برانگیختہ کرنا اور اباحیت و اخلاقی انارکی پیدا کرنا (یا اس کے علاوہ گناہ وفساد پر مشتمل کوئی غرض) ہو تو  یہ گناہ اور ناجائز ہے۔

جس صورت میں غزل لکھنا اور کہنا جائزہے، اس صورت میں بھی اس کو مستقل مشغلہ یا ذریعہ معاش بنانے کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے۔  (فتاوی شامی  -  ج: ۶، ص: ۳۵۰ِ و ۴۲۴، ط؛ سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے