بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تشھد میں انگلی اٹھانے کا ثبوت


سوال

نمازمیں جب تشہد میں بیٹھتے ہیں تواشھد اللہ پڑھتے ہوئے انگلی اٹھاتے ہیں برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں اس کا ثبوت بتادیں مہربانی ہوگی ۔

جواب

نماز میں تشھد پڑھتے ہوئے انگلی اٹھا نا متعدد شرعی نصوص سے ثابت ہے،اسی وجہ سے اس پر امت کا تسلسل کے ساتھ عمل چلا آرہا ہے ، حدیث اور فقہ کی تقریباً ہر کتاب میں اس کا ثبوت اور سنت ہونا واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔اس سلسلے میں اگر کسی قسم کا شک وشبہ بھی اگر کبھی پیدا ہوا ہو تو اس کا جواب بھی تفصیلی طور پر دیا گیا ہے،علامہ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمة اللہ علیہ نے اس موضوع پر ٹھوس وقیع رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے،جس کا نامrsquorsquoنورالعینین فی اثبات الاشارة فی التشھدینlsquolsquoرکھا ہے،یہ رسالہ اگرچہ تاحال طبع نہیں ہوا مگر ہمارے پاس اس کا مخطوطہ موجود ہے،اور اس پر تحقیق و تخریج ہو چکی ہے ،رسالہ عربی زبان میں ہے، اہل علم کے فائدے کے لیے طباعت کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ ہم یہاں پر ترمذی شریف کی ایک رویت نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں rsquorsquoحضرت عباس بن سہل الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعداور محمد بن مسلم رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا ،تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سےزیادہ جانتا ہوں،بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے یعنی تشھد کے لیے اور انہوں نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور دائیں پاؤں کا اگلا حصہ قبلہ رخ فرمایا اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر رکھی اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر،اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا یعنی شھادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ترمذی شریف :38-1 مزید تفصیل کے لیے اہل علم حضرات اعلاء السنن،سنن ابی داؤد،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،بدائع الصنائع اور فتاویٰ شامی کی متعلقہ مباحث میں تفصیلات ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں