بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کے مکان کی تقسیم


سوال

1۔ عبداللہ کے والد نے تین بیٹے ، چار بیٹیاں اور ایک اہلیہ کو چھوڑا ہے، وراثت میں صرف دو مکان ہیں، ایک مکان غازی آباد میں جس کی چوڑائی 19 فٹ لمبائی 43فٹ ہے اور ایک مکان مراد آباد میں ہے جس کی چوڑائی 15فٹ لمبائی 55فٹ ہے، وارثوں میں کوئی بھی اتنی وسعت نہیں رکھتا جو دونوں مکانوں کو یا دونوں میں سے کسی بھی ایک مکان کو اپنی طرف لگالے اور ورثاء کو شرعی حصہ تقسیم کر سکے ، جبکہ ورثاء میں سے کچھ وارثین دونوں مکانوں میں سے کسی بھی ایک مکان کو فروخت کرنے پر راضی نہیں ہیں، بلکہ تمام وارثین کا مطالبہ ہے کہ ہمیں دونوں مکانوں میں سے حصہ چاہئے ، چاہے جتنا بھی ہو، تو اس صورت میں تقسیم وراثت کی شکل کیا ہوگی؟

2۔واضح ہو کہ عبداللہ کے والد نے چار بیٹیوں میں سے تین بیٹیوں اور ایک بیٹے عبداللہ کی شادی خود کی ، والد کی وفات کے بعد عبداللہ نے ایک بہن اور دو بھائیوں کی شادیاں مکمل اپنے خرچے سے کیں، اور دوسری منزل پر ایک کمرہ بھائی کے لئے اور ایک کمرہ والدہ کے لئے بھی تیار کروایا جس میں کسی سے بھی کوئی تعاون نہ مل سکا۔ اس لیے عبداللہ ان تمام تر ذمہ داریوں ( بہن، بھائیوں کی شادی، تعمیر بالائی کمرے، والدہ ، بہنوں کے حق حقوق، تمام رشتہ داری ، قرابت داری اور برادری میں نو تہ دینے ) کی وجہ سے مال وراثت میں زیادہ کے مستحق ہیں یا نہیں؟

نیز والدہ اور بہنوں کا کہنا ہے کہ تینوں بھائیوں میں جو ہم کو سمجھے گا یعنی حق حقوق ادا کرتا ہے اور کرتا رہے گا تو ہمارا حصہ وراثت وہی لے گا۔

جواب

صورت مسئولہ  میں مذکورہ دونوں مکان اگر قابل تقسیم ہیں  (تقسیم کرنےکےبعد ہر وارث اپنے حصےسےنفع اٹھا سکتا ہے)تو اس صورت میں ان مکانوں کو تقسیم کردیا جائے ،اور اگر قابل تقسیم نہیں ہے تو ان مکانوں  کو فروخت کردیاجائےاور رقم تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کردی جائے ،یا کوئی ایک وارث ان مکانوں کو  اپنی طرف کرلے اور باقی ورثاء کو ان کے حصے کی رقم دیدے۔

لیکن اگر ورثاء فروخت نہیں کرنا چاہتے اور نہ کوئی وارث ان مکانوں کو  کو اپنی طرف کرنا چاہتاہے   تو اس صورت میں اختیار ہےکہ باہمی رضامندی سے  یا تو باری مقرر کریں کہ اتنے دن ایک بھائی رہے گا اتنے دن دوسرا بھائی رہے گا،اتنے دن بہن رہے گی ، یا جو بھائی ان  مکانوں میں رہ رہےہیں وہ دیگر ورثاء کے ساتھ ان کےحصہ میں کرایہ کا معاملہ کرلیں ،اور ہر ماہ ان کے حصے کا کرایہ ادا کریں ۔

مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ، یعنی تجہیز و تکفین (کفن ، دفن)کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کرنےکےبعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو   80حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوہ کو  10 حصے ، ہر بیٹے کو14 حصے اور ہر بیٹی کو7  حصے ملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت:8 / 80

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
101414147777

یعنی 100 روپے میں سے بیوہ  کو 12.50 روپے ،ہر بیٹے کو 17.50 روپے اور ہر بیٹی کو 8.75 روپے ملیں گے۔

الدرالمختار میں ہے :

"وقسم المال المشترک (بطلب أحدھم ان انتفع کل)بحصته (بعد القسمة وبطلب ذی الکثیر ان  لم ینتفع الآخر  لقلة حصته ) وان تضررالکل لم یقسم."

(کتاب القسمة 6 / 260 ط:سعید)

وفيه أيضا:

"دار أو حانوت بين اثنين لا يمكن قسمتها تشاجرا فيه فقال أحدهما لا أكري ولا أنتفع، وقال الآخر أريدذلك أمر القاضي بالمهايأة، ثم يقال لمن لا يريد الانتفاع إن شئت فانتفع، وإن شئت فأغلق الباب."

(کتاب القسمة رد المحتار6/ 261ط:سعيد)

المبسوط لسرخسی  میں ہے:

"ولو ان  بیتاً  فی دارٍ بین رجلین  أراد احدهما قسمته وامتنع  الآخر وهو صغیر لاینتفع   واحد منهما بنصیبه  اذا قسم لم یقسمه القاضی  بینهما ."

(کتاب البسوط: 15 / 13ط:دارالکتب  العلمية )

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (ولا تدخل في القسمة الدراهم إلا برضاهم)؛ لأنه لا شركة فيها ويفوت به التعديل أيضا في القسمة؛ لأن بعضهم يصل إلى عين المال المشترك في الحال، ودراهم الآخر في الذمة فيخشى عليها التوى ولأن الجنسين المشتركين لا ‌يقسم فما ظنك عند عدم الاشتراك."

(كتاب القسمة، الإجبار على القسمة، ج:5، ص:271، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وإذا كانت في التركة دار وحانوت و الورثة كلهم كبار وتراضوا على أن يدفعوا الدار والحانوت إلى واحد منهم عن جميع نصيبه من التركة جاز لأن عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - إنما لا يجمع نصيب واحد من الورثة بطريق الجبر من القاضي وأما عند التراضي فذلك جائز."

(كتاب القسمة ، الباب الثاني في بيان كيفية القسمة، ج:5، ص:205، ط:دار الفكر)

2۔عبد اللہ نے والد کے انتقال کے بعد اپنے بھائیوں  اور بہن کی شادی وغیرہ میں جو خرچے کئے ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ اگر خرچہ کرنے سے پہلے ان بھائیوں  اور بہن سے  کوئی معاہدہ ہوا تھا کہ بعد میں یہ پیسے واپس لئے جائیں گے یا میراث کے حصے میں سے وصول کئے جائیں گے تو اس صورت  میں تو عبد اللہ کو  ان بھائیوں اور بہن سے حسب معاہدہ اپنے پیسے  واپس لینے کا حق ہے ۔لیکن اگر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہواتھا تو پھر یہ تبرع ہوا اب کچھ واپس لینے کا حق نہیں ہےاور نہ ہی میراث میں سے  اپنے حصے سے زیادہ پیسے  لینے کا حق ہے، ہاں سب ورثاء رضامندی سے دے دیں تو اپنا اپنا صحیح و جائز ہے۔

البتہ عبد اللہ نے  مکان کی دوسری منزل پر جو دو کمرے بھائی اور والدہ کے لیے تیار کروائے  ہیں ، تو اس کا خرچہ وہ اپنی والدہ اور بھائی سے لے سکتا ہے ۔

باقی والدہ اور بہنوں کا یہ کہنا تینوں بھائیوں میں سے جو ہمارے حقوق ادا کرے گا تو ہمارا حصہ وراثت وہی لے گا تو اس کا حکم یہ ہے کہ پہلے تو میراث تقسیم کردی جائے اور ہر ایک کو اس کا حصہ دے دیا جائے ،پھر تقسیم کے بعد جو وارث اپنی خوشی سے اپنا حصہ کسی کو دینا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔

والدہ کے لیے ایک حکم مزید یہ ہے کہ   اگر وہ اپناوراثت کا حصہ اپنی زندگی میں بچوں کو دینا چاہتی ہیں تو  سب کو برابر برابر دیں ،جتنا ایک بیٹے کودیں اتنا ہی ایک بیٹی کو دیں ،بلاوجہ کمی بیشی کرنا یا کسی کو بالکل ہی محروم کرنا شرعا جائز نہیں ہے،البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو  اس کی  خدمت کرنے اور خیال رکھنے  کی وجہ سے دوسروں کو بنسبت زیادہ دے سکتی ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن بنى أو غرس في أرض غيره بغير إذنه، أمر بالقلع والرد) لو قيمة الساحة أكثر كما مر، (وللمالك أن يضمن له قيمة بناء أو شجر أمر بقلعه) أي مستحق القلع فتقوم بدونهما ومع أحدهما مستحق القلع فيضمن الفضل (إن نقصت الأرض به) أي بالقلع.

وفي الرد: (قوله: بغير إذنه) فلو بإذنه، فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما أنفق، جامع الفصولين من أحكام العمارة في ملك الغير."

(کتاب الغصب، مطلب في رد المغصوب، ج:6، ص:194/ 195، ط:سعید)

وفيه أيضا:

"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء...قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين . وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إ هـ…. قوله ( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي قوله ( بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط."

 

(الدر المختار مع رد المحتار، 747/6، سعید)

فقط والله أعلم

 


فتوی نمبر : 144411101092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں