بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم


سوال

گھر کے سربراہ کا انتقال ہونے کے بعد ورثاء میں ایک بیوہ ، ایک شادی شدہ بیٹا اور ایک شادی شدہ بیٹی شامل ہیں، میت کے ترکہ میں ایک گھر ہے،جس میں بیوہ اور شادی شدہ بیٹے کی رہائش ہے، لہذا میراث کی تقسیم کا طریقہ کار واضح فرمادیں،نیز کتنا حصہ کس کا ہوگا یہ بھی واضح فرمادیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی  تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ، یعنی تجہیز و تکفین (کفن ، دفن)کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کرنےکےبعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو  24حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے ،بیٹے کو 14 حصے اور بیٹی کو 7 حصے ملیں گے ۔صورت تقسیم یہ ہے:

میت:8 / 24

بیوہ بیٹابیٹی
17
3147

یعنی  100 روپے  میں سے 12.50 روپے ،بیٹے کو 58.33 روپے اور بیٹی کو 29.166 روپے ملیں گے۔

ملاحظہ :یہ تقسیم اس صورت میں ہے کہ اگر مرحوم کے والدین  میں سے کوئی حیات نہ ہو،اگر والدین میں سے کوئی حیات ہے تو  تقسیم مختلف ہوگی،بوقتِ ضرورت دوبارہ معلوم کریں۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100479

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں