بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی دکان میں کاروبار اور اس کے منافع کا حکم


سوال

زید کا انتقال ہو گیا،  ترکہ میں مرحوم نے ایک عدد دکان اور ایک عدد مکان چھوڑا،  مرحوم کے ورثاء میں چھ  بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں،  کچھ نا گزیر وجوہات کی بنا پر ترکہ کی تقسیم نہ کی جاسکی اور کئی سالوں کی مدت گزر گئی، اس دوران  ورثاء میں سے ایک بھائی بکر مکمل دکان پر قابض و مختار رہا  اور دکان کی آمدنی کو  دیگر ورثاء کا  شرعی حصہ دیے بغیر اپنے تصرف میں لاتا رہا۔

اس دوران دیگر ورثاء میں  سے ایک بھائی علی جس کا اپنا کاروبار تھا، مارکیٹ کا مقروض ہو گیا، اور قرض خواہ گھر تک پہنچ گئے، معاملہ عزت پر آ گیا،  چنانچہ فیصلہ ہوا کہ قرض بکر ادا کردے،  چنانچہ بکر نے قرض  ادا کر دیا،  جس کی مقدار علی کے شرعی حق کے برابر تھی، علی نے اپنے شرعی حصے کی وصولی  اور  وراثت میں اپنے حصے سے دستبرداری کا پروانہ جاری کردیا۔

درج بالا بیان کردہ حقائق کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں:

1.  کیا بکر کا کل آمدنی پر بغیر شرکت ورثاء تصرف و  اختیار جائز ہے؟

2. کیا بکر علی کا قرض ادا کرنے کے عوض وراثت میں سے د گنا  حصے کا حق دار ہوگا؟

3. وراثتی ملکیت سے  ہونے والی آمدنی سے ایک وارث کا دو سرے وارث کا حق ادا کرنا کیسا ہے؟  جبکہ اس کی آمدنی کا واحد ذریعہ  غیر تقسیم شدہ وراثت ہو۔

وضاحت: مذکورہ کاروبار والد کی ملکیت تھا۔

جواب

واضح رہے کہ کسی  شخص کے انتقال کے بعد اُس کے ترکہ میں اُس کے تمام شرعی ورثاء کا حق ہوتا ہے، کسی ایک وارث کا تمام ترکہ پر قابض ہو جانا اور ديگر شرعی ورثاء  کی اجازت کے بغیر ان كے شرعی حق ميراث كو اپنے استعمال میں لانا سخت گناہ کا کام ہے اور اپنے شرعی حق سے زائد استعمال كر كے غاصب شمار ہوتا ہے اور اپنے شرعی حصہ سے زائد تركہ استعمال كرنے پر ضامن ہوتا ہے، ديگر ورثاء كو ادائيگي كرنا لازم هوتا هے۔

مذكورہ تفصيل كي رو سے  صورتِ مسئولہ میں اگر بکر  اپنے والد مرحوم کے انتقال کے بعد ان کی مملوکہ دکان پر دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر قابض رہا تو ایسا کرنے سے وہ گناہ گار ہوا، پھر چونکہ یہ کاروبار بھی والد کی ملکیت تھا اس لیے ان کے انتقال کے بعد بھی اس کاروبار کے منافع تمام ورثاء کے شمار ہوں گے، چنانچہ اِس بیٹے  پر لازم ہے کہ اس نے والد کے انتقال کے بعد اس کاروبار سے جتنی آمدن حاصل کی اُس کا حساب کر کے اُس کو تمام ورثاء میں تقسیم کرے۔

1. بکر کا دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر ترکہ کی دکان اور کاروبار پر قابض رہنا شرعاً جائز نہیں تھا۔

2. اگر بکر نے ترکہ کے کاروبار سے اپنے بھائی علی کا قرض ادا کیا تو اس کے عوض وہ وراثت میں دُگنے حصے کا مطالبہ کرنے کا حق دار نہیں۔

3. بکر نے جو کاروبار سنبھالا وہ کاروبار چونکہ ترکہ کا کاروبار تھا اس لیے اُس میں تمام ورثاء کا حق تھا، چنانچہ  اگر اس کاروبار کی آمدن سے ایک وارث کا قرض اتارا گیا( اور سوال میں موجود صراحت کے مطابق قرض اتارنے کے لیے دی گئی رقم اس کے شرعی حصے کے برابر تھی) تو یہ ادائیگی درست ہوئی، اور اس مقروض وارث کا حصہ ادا ہو گیا،  اب بکر کے ذمہ ہو گا کہ وہ بقیہ ورثاء کو بھی اُن کا حق ادا کر دے۔ اگر دنیا میں نہیں دیا تو آخرت میں دینا ہو گا اور آخرت میں دینا بہت مشکل ہے، آخرت میں جنت سے محرومی ہو گی۔

مشکوۃ شریف میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»، رواه ابن ماجه".

(باب الوصایا، الفصل الثالث 1 / 266  ط: قدیمی)

ترجمہ :"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و أما حكمه فالإثم و المغرم عند العلم و إن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ ماله أو اشترى عينًا ثم ظهر استحقاقه فالمغرم و يجب على الغاصب رد عينه على المالك و إن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليًّا كالمكيل و الموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - و قال أبو يوسف -رحمه الله تعالى -: يوم الغصب و قال محمد - رحمه الله تعالى -: يوم الانقطاع، كذا في الكافي.

و إن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الغصب، ‌‌الباب الأول في تفسير الغصب وشرطه وحكمه، 5/ 119/دار الفكر بيروت)

«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» ميں هے:

"(سئل) في إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟

(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا۔"

 (كتاب الشركة، 1/ 94/ دار المعرفة)

«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» ميں هے:

"(سئل) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟

(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد والبينة بينة الخارج اهـ وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا.

وأما إذا شرطوا زيادة لأحدهم فقد قال في البحر ولم يشترط المصنف لاستحقاق الربح اجتماعهما على العمل لأنه غير شرط لتضمنها الوكالة.

ولذا قال في البزازية اشتركا وعمل أحدهما في غيبة الآخر فلما حضر أعطاه حصته ثم غاب العامل وعمل الآخر فلما حضر الغائب أبى أن يعطيه حصة من الربح أن الشرط أن يعملا جميعا وشتى فما كان من تجارتهما من الربح فبينهما على الشرط عملا أو عمل أحدهما فإن مرض أحدهما ولم يعمل وعمل الآخر فهو بينهما."

 (كتاب الشركة، 1/ 92/ دار المعرفة)

شرح المجلہ میں ہے:

"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم۔"

( كتاب الشركة،رقم المادة: 1073، ص: 22، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100142

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں